اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ خطے میں جنگوں اور اختلافات سے کسی ملک کو فائدہ نہیں ملے گا لہذا تمام خطی ممالک کو امن و سلامتی کے لئے مل کر جد و جہد کرنی ہوگی.
یہ بات صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے منگل کے روز تہران میں آرمینیا کے وزیراعظم کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام پڑوسی ممالک بشمول آرمینیا کے ساتھ باہمی تعاون کے فروغ کے لئے پُرعزم ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام آرمینیا سمیت پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کی توسیع کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لئے کوئی حد مقرر نہیں ہے.
ایران اور آرمینیا کے درمیان تجارتی، اقتصادی، سرمایہ کاری، توانائی اور مصنوعات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا ہے کہ آرمینیا کے ساتھ تعلقات کے فروغ ہمارے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے.
انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال بالخصوص شام، عراق اور یمن کے حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ خطی ممالک میں موجودہ مسائل اور بحرانوں کے حل سے علاقائی خوشحالی کے لئے اہم ہے اور اس حوالے سے ایران اور آرمینیا مثبت تعاون کرسکتے ہیں.
اس ملاقات میں آرمینیا کے وزیراعظم نے کہا کہ خطی مسائل کے حل اور قیام امن و استحکام کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے متوازن اور غیرجانبدرانہ موقف مددگار ثابت ہوگا.
'کارین کاریپتیان' نے مزید کہا کہ ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کا خواہاں ہے.
انہوں نے ٹرانزٹ کے شعبے میں ایران، آرمینیا اور جارجیا کے سہ فریقی تعاون بالخصوص ترکمانستان کے ساتھ توانائی شعبے میں مشترکہ تعاون کو اہم قرار دیا.
کارین کاریپتیان نے دونوں ممالک کی سرحدی تجارتی سرگرمیوں کی توسیع پر زور دیا اور ایرانی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ آرمینیا کے فری اقتصادی زون میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲