27 ستمبر 2017 - 15:46
سعودی خواتین کو آخرکار گاڑی چلانے کی اجازت مل ہی گئی

سعودی مفتیوں کے نزدیک خواتین کا گاڑی چلانا حرام فعل سمجھا جاتا تھا لیکن تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس ملک نے خواتین کے بنیادی حقوق میں سے ایک "ڈرائیونگ" کو 2018 کے بعد حلال قرار دیدیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی مفتیوں کے نزدیک خواتین کا گاڑی چلانا حرام فعل سمجھا جاتا تھا لیکن تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس ملک نے خواتین کے بنیادی حقوق میں سے ایک "ڈرائیونگ" کو 2018 کے بعد حلال قرار دیدیا ہے۔

سعودی حکومت نے ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دے دی ہے جس کے مطابق اب سعودی خواتین اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرسکیں گے۔ خواتین کو ڈرائیونگ کے لئے فوری طور پر لائسنس جاری کئے جائیں گے۔

خواتین کو ڈرائیونگ کے اجازت نامے کے حکم پر شاہ سلمان نے دستخط کر دئیے ہیں۔ شاہ کے دستخطوں کے بعد یہ حکمنامہ فوری طور پر رائج ہو جائے گا۔

خواتین اگلے سال جون 2018ءتک ڈرائیونگ کر سکیں گی۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت تو مل گئی ہے مگر سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کے حوالے سے کوئی نظام موجود نہیں ہے، اس وجہ سے خواتین فوری طور پر ڈرائیونگ نہیں کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ڈرائیونگ کی اجازت نہ ملنے پر خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہ گھروں سے باہر سفر کرنے کے لئے ”اوبر“ اور ”کریم“ جیسی ٹیکسی سروسز کا سہارا لیتی تھیں، سعودی خواتین نے ڈرائیونگ کی اجازت کے لئے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے جس کے دوران کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا اور انہیں سزائیں بھی دی گئی تھیں۔

تاہم سعودی حکام نے اب ڈرائیونگ کو حلال قرار دیکر خواتین کیلئے اس فعل کی اجازت دیدی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲