اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنانی وزیراعظم 'سعد الحریری' کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کو تجویز دی ہے کہ لبنان کے استحکام کے لئے سنجیدہ رویہ اپنائیں.
انہوں نے شامی شہر دیرالزور میں شامی فوج کی حالیہ فتوحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاسی حل کی ابتدائی علامات غیر رسمی طور پر دکھائی گئی ہیں.
'شیخ نعیم قاسم' نے گزشتہ سال کے دوران حلب کی آزادی کو شام کو تقسیم کرنے کی سازش کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی دشتگردوں کے چنگل سے شامی علاقے دیرالزور کی آزادی، داعش کے دہشتگردوں کے خلاف حتمی فتح کا مرحلہ ہے.
انہوں نے لبنان کے مفادات پر مبنی لبنان اور شام کے درمیان موجودہ مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا.
انہون نے مزید بتایا کہ شام میں امن زون کے قیام کے منصوبے کے لیے سعودی وزیر خارجہ 'عادل الجبیر' کی موافقت، شام میں سعودی عرب کی شکست کی علامت ہے.
انہوں لنے حزب اللہ کے خلاف سعودی عرب کے وزیر برائے خلیج فارس ممالک امور 'ثامر السبهان' کے حالیہ بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، اپنے منصوبوں میں ناکام ہونے کی وجہ سے اب سخت حالات کا شکار ہے.
تفصیلات کے مطابق، ثامر السبهان نے گزشتہ دنوں میں اپنے ٹوئیٹر پیج پر اپنے ایک پیغام میں حزب اللہ کو 'شیطان کا حامی' اور دشتگردی کی پیداوار کا مرکز قرار دیا.
مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سعودی عرب کو فلسطینی مسئلے میں اپنے مفاد کو مد نظر رکھنا اور اپنے محاسبات میں نظر ثانی کرنی چاہیے.
انہوں نے دیرالزور کی آزادی میں حزب اللہ کے اہم اور موثر کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور فوج کے حالات بہت اچھا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمتی فرنٹ اور حزب اللہ کے اتحاد، پہاڑی سرحدی علاقوں کی کامیابی کا باعث ہو گیا.
انہوں نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کے خلاف کسی بھی جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں اور یہ تیاری بالکل سیاسی تجزیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے.
.......
/169