اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا: حوزہ علمیہ کے گروہ تاریخی مطالعات کے رکن حجۃ الاسلام امیرعلی حسنلو نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسے گفتگو کے دوران حضرت علی علیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی سےمربوط شکوک وشبہات کے بارے میں کہا ہےکہ اہل سنت کی روایات کےمطابق بہت سے لوگوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سےشادی کی درخواست کی تھی کہ جن میں ابوبکر، عمر اوربعض دیگرمہاجروں کا نام لیا گیا ہے۔ اہل سنت کی ایک معتبرکتاب سنن نسائی میں ایک روایت ہے کہ ابوبکر،عمراوربعض مہاجرین حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کی درخواست لے کرگئے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: فاطمہ کے حوالے سے میں اللہ کے دستورکا منتظرہوں۔ مولف نے ان افراد کےاحترام کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئےلکھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فاطمہ کے بچپن کواپنی عدم رضایت کی دلیل قراردیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ یعقوبی نے اس بارے میں لکھا ہےکہ مہاجرین کےایک گروہ نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاطمہ سلام اللہ علیہا سےشادی کی درخواست کی تھی۔ اس کےعلاوہ بن ہشام، طبری، بلاذری، کلینی، شیخ مفید اورشیخ طوسی نے بھی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کرنے کے خواہشمند افراد کے بارے میں لکھا ہے۔
حجۃ الاسلام حسنلو نےکہا ہےکہ معتبرتاریخی معتبرتحقیقات کی بنا پرحضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بعثت کے پانچ سال کےبعد اس دنیا میں آئیں اورحضرت علی علیہ السلام کی شادی کی خواہش کے وقت آپ کی عمرنو سال تھی۔ البتہ جن حضرات نے آپ کی عمراٹھارہ سال بتائی ہے وہ درست نہیں ہے۔
انہوں نےامیرالمومنین علیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی کےسال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہ کہ دوم ہجری کو یہ اہم واقعہ رونما ہوا تھا اورجب بہت سے افراد نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکرحضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کی درخواست کی توآنحضرت نے انہیں منفی جواب دیتے ہوئےحضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا: میں آپ کی شادی ایک ایسے شخص سے کروں گا کہ جوسب لوگوں سے زیادہ نیک اورسب سے پہلے اسلام قبول کرنا والا ہے۔ا بن سعد نے اپنی کتاب میں اس طرح لکھا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منفی جواب ملنے کے بعد ابوبکراورعمر حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اورانہیں فاطمہ سے شادی کی درخواست کرنے کی تجویزپیش کی۔ امام علی علیہ السلام نے اس تجویزکوقبول کیا۔ ان دونوں کےعلاوہ انصارکی ایک جماعت نے بھی اس طرح کا مشورہ دیا تھا۔ جب علی علیہ السلام اس موضوع کے حوالے سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے توآنحضرت نے پوچھا علی جان کس لیے آئے ہیں تو آپ نے انتہائی شرم وحیاء کےساتھ سرجھکائے ہوئےعرض کیا کہ میں فاطمہ سے شادی کی درخواست لےکرآیا ہوں۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موضوع پربہت خوش ہوئے اورانہیں خوش آمدید کہا۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ علامہ مجلسی نےعیون اخبارالرضا کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ آنحضرت نے امیرالمومنین کے جواب میں فرمایا کہ قریش کے کچھ لوگ مجھ سےناراض ہوگئے ہیں کہ میں انہیں اپنی بیٹی کا رشتہ کیوں نہیں دیا ہے اورمیں نے انہیں کہا ہے کہ یہ اللہ کا ارادہ ہے اورعلی کے علاوہ فاطمہ کا کوئی کفو نہیں ہے۔
انہوں نےکہا ہے ہ بعض مستشرقین نے ضعیف روایات کا حوالہ دیتے ہوئے شکوک وشبہات ایجاد کرتے ہوئے کہا ہےکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس شادی پرراضی نہیں تھیں جبکہ مذکورہ بالا گفتگوسےمعلوم ہوتا ہےکہ اس طرح نہیں تھا اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامیرالمومنین علیہ السلام کی رضایت سے یہ شادی ہوئی تھی۔
حجۃ الاسلام حسنلو نے اس شادی کی اہمیت اوراسلام کی تقدیرپراس کی تاثیرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ رسالت کا مستقبل اوردین کی تقدیراس شادی سے وابستہ ہے اوریہ واقعہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے تعلق اورازدواج کی بنیاد رکھی کہ جس کے نتیجے میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین پیدا ہوئے کہ جنہوں نے اللہ کے نظرخاص سے پرورش پائی اورانسانوں کی ہدایت کابیڑہ اٹھایا اوراس طرح دین کی تقدیر،اس خاندان اوراس شادی کی تقدیرسے جڑگئی۔
.......
/169