13 جون 2017 - 17:36
بعض خطی ممالک امریکہ کے غلط اشاروں پر چل رہے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ خطے میں غلط پالیسی کو ہوا دے رہا ہے اور بدقسمتی سے بعض خطی ممالک ایسے غلط اشاروں پر چل رہے ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ خطے میں غلط پالیسی کو ہوا دے رہا ہے اور بدقسمتی سے بعض خطی ممالک ایسے غلط اشاروں پر چل رہے ہیں.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے گزشتہ روز اپنے نارویجن ہم منصب 'بورگے برینڈے' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے علاقے میں وہابیت کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہابیت اور اس گروپ کے پیروکاروں کے انتہاپسند نظریاتی کی جڑیں علاقائی استحکام کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے.

محمد جواد ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی تعاون اور امن کو برقرار رکھنا ہے.

بورگے برینڈے نے تہران مین ہونے والے دہشتگردی حملوں پر اپنے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اور ایرانی حکومت، قوم اور اس واقعے کے لواحقین کے لئے دعا کی.

اس ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے خطے ميں نئی کشیدیگیاں سمیت قطر، شام اور عراق کے بحران پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اور خطے میں تنازعات کو کم کرنے کے حل کے لئے سیاسی مذاکرات پر زور دیا.

ایرانی وزیر خارجہ اوسلو میں اپنے قیام کے دوران 2017 اوسلو فورم کے اجلاس سے خطاب کرکے اور علاقائی مسائل سمیت دہشتگردوں اور انتہاپسندوں سے نمنٹے پر تبادلہ خیال کریں گے.

تفصیلات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ 'محمد جواد ظریف' پیر کے روز ناروے کے دورے پر پہنچ گئے جہاں وہ اوسلو فورم میں خطاب کے علاوہ اہم عالمی شخصیات اور ممالک کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے.

یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ سال بھی اسلو فورم میں شرکت اور خطاب کیا اور اس موقع پر ناروے رہنماؤں بالخصوص پورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کے ساتھ بھی ملاقات کیں.

اس سال اوسلو فورم کا عنوان 'نئے جغرافیائی دور میں امن' ہے.

اس فورم کی ویب سائٹ کے مطابق، اوسلو اسمبلی میں یوروپ یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ 'فدریکا موگرینی'،سابق امریکی وزیر خارجہ'جان کری'، جنوبی افریقہ کے سابق صدر 'تابوامبکی'، اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل 'کوفی عنان'، سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل 'جفری فلتمن'، ایران، کینیا، انڈونیشیا، سوڈان، اردن، بوسنیا اور ھرزیگووینا، فن لینڈ، کروشیا کے وزرائے خارجہ اور دیگر ممالک کے مختلف نمائندوں کی شرکت متوقع ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲