23 مئی 2017 - 17:32
امریکہ اور سعودی عرب کا ایران مخالف ایک اور بیان

سعودی عرب اور امریکہ نے ایک اور مشترکہ ایران مخالف بیان جاری کرتے ہوئے تہران کے جوہری معاہدے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیر کے روز سعودی عرب اور امریکہ کی طرف سے ایران مخالف ایک اور بیان جاری کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک نے ایک بار پھر ایران پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے دہشت گردوں کی حمایت اور خطے کے ممالک کے امن و امان سے کھیلنے کا بیہودہ الزام لگاتے ہوئے اس ملک کو لگام لگانے پر زور دیا ہے۔

اس بیان کی بناء پر سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز اور امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران خطے کے ممالک اور عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ ہے اور ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بعض مفادات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

آل سعود اور امریکہ نے تاکید کی ہے کہ ایران کا بیلیسٹک میزائل سسٹم صرف ہمسایہ ممالک ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے۔ امریکہ اور آل سعود نے لبنان حکومت کی مدد اور حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے پر بھی زور دیا۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ آل سعود شام کے حمص میں واقع الشعیرات ائیربیس پر امریکی حملوں کی حمایت کرتی ہے۔ دونوں اتحادیوں نے شام بحران کے حل و فصل کے لئے جینیوا معاہدہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر تاکید کی۔

آل سعود اور امریکہ نے داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لئے باہمی اتحاد پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کے تفکر اور اس کے مالی ذرائع کو نابود کرنے پر بھی زور دیا۔

اتوار کے روز بھی ریاض اجلاس کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں ایران پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ خطے اور عالمی برادری کی بدامنی کا باعث بن رہا ہے۔

اس بیان میں ایران پر دہشت گردی کی حمایت اور نشر و اشاعت کے بیہودہ الزام لگاتے ہوئے سخت مذمت کی گئی تھی۔

نیز اس بیان میں ایران پر خطے میں موجود ممالک کے داخلی مسائل میں مداخلت کرنے جیسے الزامات بھی لگائی گئی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲