5 مئی 2017 - 05:55
پاکستان؛ حیدرآباد میں اصغریہ علم و عمل تحریک خواتین کی جانب سے جشن ثانی زہرا کا انعقاد

حیدرآباد میں اصغریہ علم و عمل تحریک خواتین پاکستان کی جانب سے جشن ولادت باسعادت ثانی زھرا ( س) کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدرآباد میں اصغریہ علم و عمل تحریک خواتین پاکستان کی جانب سے جشن ولادت باسعادت ثانی زھرا ( س) کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے چئیرمین  مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی اور مجلس وحدت مسلمین کے قائد علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے خصوصی شرکت کی، امامیہ ٹرسٹ یونٹ نمبر 9لطیف آباد حیدرآباد میں جشن ولادت باسعادت جناب زینب (س) کے سلسلے میں اصغریہ علم و عمل تحریک  خواتین پاکستان کی جانب سے جشن ثانی زہرا( س) کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں حیدرآباد کے مختلف مدارس اور تنظمیں جن میں مدرسہ معصومہ، مدرسہ فاطمیہ،مدرسہ معرفت اسلامی، امامیہ آرگنائزیشن ،مکتب زینبیہ،محفل حسینی،پیام اسلامی فاؤنڈیشن، پیام ولایت اسکاوٹ،عزم زینب،عقیلہ بنی ہاشم اکیڈمی کی خواہران اور بچیوں نے بھر پور طور پہ شمولیت اور شرکت کی، پروگرام میں اصغریہ علم و عمل تحریک خواتین کی زمیداران اور دیگر  نے با احسن و خوبی انجام دیئے پروگرام کا باقاعدہ آغاز مدرسہ جمران حیدرآباد کی طالبات نےتلاوت قرآن پاک سے کیا۔ بعداز رقیہ جعفر نے حمد اور نعت رسول مقبول( ص) پیش کی۔بعد حمدو نعت خواہر فاطمہ نے جناب زینب کے حضور ہدیہ منقبت پیش کیا۔ منقبت کے بعد پابندی وقت کا خیال رکھنے والی خواہران کی حوصلہ افزائی  کے لیے بذریعہ قرعہ اندازی کیش انعامات اور گفٹس تقسیم کیے گئے۔اس کے بعد ملٹی میڈیا ویڈیو کلپ دکھائی  گئی اور سوال و جواب کے بعد انعامات دئیےگئے۔قائد وحدت آغا راجہ ناصر عباس اور آغا حسین شاہ موسوی کے ساتھ پینل ڈسکشن کے سیشن کا آغاز ہوا جسمیں بعنوان "جناب زہرہ (س)اور جناب زینب ( س) کی حیات کے علمی اور عملی پہلو سے دور حاضر کی خواتین کے لیے سبق " کے حوالے سے خواہر عظمٰی تقوی نے سوالات کیےجنکے بہترین انداز میں دونوں محترم علماء نے جوابات ارشاد فرمائے۔پینل کی گفتگو سے مجمع میں موجود خواتین سے عنوان کی مناسبت سے سوالات کئے گئے اور انھیں انعامات دئیے گئے۔

 ایک نشست میں خطاب کرتے ہوئے سید حسین موسوی نے سیدہ زینب س اور آج کے خواتین کی زمیداری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کربلا دو مرحلوں پر مشتمل ہے : پہلا مرحلہ ، خون ، شہادت اور انقلاب کا مرحلہ تھا ، دوسرامرحلہ پیغام رسانی ، امّتِ مسلمہ کی بیداری اور اس واقعہ کی یاد کو زندہ اور تازہ رکھنے کا مرحلہ تھا ،واقعہ کربلا کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ معرکۂ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی شید الشہد ا امام حسینؑ ادھورا ہی رہ جاتا۔ یہی سبب ہے کہ نواسۂ رسول ؐ حسینؑ مظلوم اپنے ہمراہ اسلامی معاشرے کی آئیڈ یل خواتین کو میدان کربلا میں لائے تھے۔کربلا کی شیردل خواتین نے شدت مصائب میں گھر کر بھی اپنے کردار وعمل سے ثابت کردکھایا کہ آزادی ضمیر انسانی کے سرخیل امام حسینؓ کربلا میں خواتین کو بے مقصد نہیں لائے تھے۔ فاتح کوفہ وشام خاتون کربلا جناب زینبؓ کے بے مثل کردار وقربانیوں سے تاریخ کربلا کا ہرورق منور نظر آتا ہے۔

جس کے بعد خواہر سیمی نقوی ممبر سندھ ورکنگ کمیٹی مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین، مسؤل روابط و شعبہ اسکاؤٹ وحدت  نے " بنتِ حوا" کے عنوان سے نظم پیش کی۔جناب سیدہ(س)اور بیبی زینب (س) امام حسین (ع) کے ہم نام بچے بچیوں میں تحائف پیش کیے گئے ۔اس کے بعد بچیوں نے ٹیبلو" ظلمت سے نور کی طرف" پیش کیا۔پروگرام میں مدارس کے جانب سے خانہ کعبہ کا ماڈل اور جناب سیدہ (س) کے جہیز کے مناظر پیش کیے گئے ۔اس کے علاوہ حجاب کارنر بھی لگایا گیا۔آخر میں خواہر سلمی علی مرکزی صدر اصغریہ علم و عمل تحریک خواتین پاکستان نے تمام منتظمین مدارس اور تنظیموں کو کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے ان کی توفیقات میں اضافے اور قبولیت کے لیے دعا کی،پروگرام کا باقائدہ اختیتام دعائے سلامتی امامِ زماں(ع) اور ملک و ملت کی کامیابی و کامرانی کی دعا سے ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲