اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان نافذ ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے بیرون ملک تکنیکی اور انجینئرنگ سے متعلق شعبوں میں دو ارب ڈالر برآمدات کیں.
يہ بات ايران كي تكنيكي اور انجينئرنگ برآمدكنندگان ايسوسي ايشن كے صدر 'محمد رضا انصاري' نے بدھ كے روز ارنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصي گفتگو كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں ںے كہا كہ بيرون ملك تكنيكي اور انجينئرنگ خدمات كي فراہمي ميں ايران كي تين توانائي كمپنياں مپنا، صانير اور كيسون نے اہم كردار ادا كيا ہے تاہم اس شعبے كو مزيد فروغ دينے كے لئے موجود ركاوٹوں كا خاتمہ كرنے كي ضرورت ہے.
انہوں نے كہا كہ تكنيكي اور انجينئرنگ خدمات كي فراہمي كي راہ ميں اصل ركاوٹ بينكنگ گارنٹي ہے، مثال كے طور پر ايران كے ايكسپورٹ ڈيولپمنٹ بينك سميت بعضي بينكوں كي جانب سے جاري كئے جانے والے بينكنگ گارنٹي كو بيرون ملك تسليم نہيں كرتے.
ايراني عہديدار نے بتايا كہ الجيريا حكام كے ساتھ مذاكرات كر رہے ہيں جس كا مقصد وہاں موجود ايراني كمپنيوں كے بينكنگ مسائل كا خاتمہ دينا ہے اور مذاكرات كامياب ہونے كے بعد ايراني كمپنيوں كے لئے 6 سے 7 ارب ڈالر كي اقتصادي سرگرميوں كے لئے راہ ہموارہ ہوجائے گي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲