17 جنوری 2017 - 18:41
موصل کے مشرقی علاقے سے داعش کا صفایا

عراق کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ موصل کے مشرق میں تین دوسرے محلوں کی آزادی کے ساتھ ہی وہ مشرق اور مغرب کے درمیان دوسرے ارتباطی پل کو کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی چینل "سومریہ" کے مطابق، عراق کی فوج دجلے پر بنائے گئے دوسرے پل تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جو شہر کے مشرق و مغرب کو آپس میں ملاتا ہے ،اب یہ کہا جا سکتا  ہے کہ فوج نے مشرقی موصل کے ۸۰ فیصد سے زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ۔

عبد الامیر یار اللہ کہ جس کے ہاتھ میں موصل کی آزادی کی کمان ہے  نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ عراق کی سرکاری فوج نے گذشتہ ۲۴ گھنٹوں میں موصل کے مشرق میں داعش کے ۱۱۳ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے اور تین نئے علاقوں کو آزاد کروا لیا ہے ۔

انہوں نے کہا :یہ کامیابی موصل میں موجود تمام فوجوں کی مشارکت اور عراق کی ہوائی فورس کی حمایت ،اور بین الاقوامی اتحاد کی مدد سے حاصل ہوئی ہے اور داعش کی کئی عدد کار بمب والی گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے ۔

اسی دوران موصل کے مشرق میں عراقی فوجوں کی پیش قدمی اور دجلے کے اوپر موجود پانچ پلوں میں دوسرے پل پر قبضے کے بعد داعش کے دہشت گردوں نے آج باقی تین پلوں کو مسمار کر دیا ہے تا کہ موصل کے مشرق اور مغرب کے درمیان رابطہ بالکل منقطع ہو جائے ۔

اگر چہ اس سے پہلے بھی ان پلوں پر امریکہ کے اتحاد کے تحت فوجوں نے بمباری کی تھی لیکن ان کو اتنا نقصان نہیں ہوا تھا کہ محدود پیمانے پر ان کے اوپر سے آمد و رفت مشکل ہو جاتی ۔

داعش نے دجلے کے باقیماندہ پلوں کو جو منہدم کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے موصل کے مشرق میں اپنے آخری حربے کو آزما لیا ہے ،اور اب اس کا مغرب سے مشرق کی طرف فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے ،اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو باقیماندہ داعشی ہیں وہ عراقی فوج کے مقابلے میں جان کی بازی لگانے والے ہیں ۔چناچہ اب مغرب کی جانب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔

عراق کی فوجوں نے آج شہر موصل کے ایک حکومتی مرکز کو  کہ جہاں حکومتی ادارے ہیں آزاد کروا لیا ہے اور شمال مشرق کی طرف یونیورسٹی پر حملے کا آغاز کر دیا ہے کہ جو داعش کے قبضے میں بچا ہوا ایک اہم علاقہ ہے ۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آج کی تبدیلیوں کے بعد بہت جلدی عراقی حکام مشرقی موصل کی آزادی کا اعلان کریں گے اور عراق کی فوج مغرب پر حملے کو کہ کہا جاتا ہے کہ وہ مشرق کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہو گا  شروع کر دے گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲