5 دسمبر 2016 - 16:54
ایران اپنے عوام کے حقوق کا دفاع کرنا جانتا ہے، ہم امریکی پابندیوں سے خوفزدہ نہیں: وزارت خارجہ کا ترجمان

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جامع معاہدے کو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا دفاع کرنا جانتا ہے اور ہم نئی پابندیوں سے خوفزدہ بھی نہیں ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جامع معاہدے کو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا دفاع کرنا جانتا ہے اور ہم نئی پابندیوں سے خوفزدہ بھی نہیں ہے.

بہرام قاسمي نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران،امريكہ سے ہميشہ كي طرح ايران مخالف رويہ اپنانے كي ہي توقع ركھتا ہے كيوںكہ ہمارا اس حوالے سے بڑا تلخ تجربہ ہے.

انہوں نے ايك سوال كا جواب ديتے ہوئے كہا كہ ہم اس بات كا انتظار ہے كہ اب اوباما ايران مخالف پابنديوں كے بل پر دستخط كرے گا يا نہيں.

ايراني ترجمان وزرات خارجہ نے كہا كہ كوئي بھي ملك جامع اتمي معاھدے كے خلاف ورزي نہيں كرسكتا كيوں كہ اس معاہدے كو يورپي يورنين ميں موجود 28 ممالك اور غير وابستگي تحريك كے اركان اور اقوامي متحدہ كے ركن ممالك كي حمايت حاصل ہے.

انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران ايك طاقتور، مہذب اور اسلامي ملك ہے اور كبھي بھي جوہري معاہدے كي خلاف ورزي نہيں كرے گا.

بہرام قاسمي نے كہا كہ اگر امريكہ اور دوسرے معاہدے كرنے والے ممالك جوہري معاہدے كي خلاف ورزي كريں تو ايران سنجيدگي اور آساني سے ان كے خلاف اقدامات كرے گا.

قاسمي نے ايران اور روس كے درميان دفاعي تعاون كے حوالے سے كہا كہ دونوں ممالك كے درميان باہمي تعاون اور كثيرالجہتي تعلقات قائم ہيں.

بہرام قاسمي نے كہا كہ اگر امريكہ اور دوسرے معاہدے كرنے والے ممالك جوہري معاہدے كي خلاف ورزي كريں تو ايران سنجيدگي سے ان كے خلاف اقدامات كرے گا.

انہوں نے كہا كہ ہم امريكہ كے كسي بھي ايران مخالف رويے كا ضرور جواب ديں گے.

وزارت خارجہ كے ترجمان نے مزيد كہا كہ ہم اميد كرتے ہيں يورپي ممالك اپنے ذمہ دارياں پوري كرتے ہوئے كسي طاقت كو مشتركہ جوہري معاہدے كي خلاف ورزي كي اجازت نہيں ديں گے.

قاسمي نے ايران اور روس كے درميان دفاعي تعاون كے حوالے سے كہا كہ دونوں ممالك كے درميان باہمي تعاون اور كثيرالجہتي تعلقات قائم ہيں.

انہوں نے يمن كے مختلف علاقوں اور شہروں پر سعودي طياروں كي مسلسل فضائي بمباري كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ ہم چاہتے ہيں كہ يمني گروہوں كا بيروني دباو اور مداخلت سے دور اپنے ملك كے مستقبل كے لئے سياسي بات چيت اور افہام و تفہيم سے فيصلہ كريں گے.

انہوں نے برما ميں روہينگيا كے مسلمانوں كے قتل عام كي مذمت كي اور كہا كہ ہم اميد كرتے ہيں كہ برما كي حكومت مسلمانوں كے حوالے امتيازي سلوك سے پرہيز كرنا چاہيے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲