18 نومبر 2016 - 14:59
ترکی میں وزیراعظم کا عہدہ ختم کرنے کا منصوبہ

ترکی میں ایک نیا نظام متعارف کروانے پر غور کیا جارہا ہے، جس میں کوئی وزیراعظم نہیں ہوگا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں ایک نیا نظام متعارف کروانے پر غور کیا جارہا ہے، جس میں کوئی وزیراعظم نہیں ہوگا۔ ترکی کے جنگلات اور پانی کے امور کے وزیر فيسيل ايروغلو کے مطابق نئے نظام میں کوئی وزیراعظم نہیں ہوگا، اس کے تحت ایک صدر ہوگا اور ان کے بعد ایک نائب صدر، جس طرح امریکا میں ہوتا ہے، ہوسکتا ہے ہمارے پاس ایک سے زائد نائب صدر ہوں۔ فيسيل ايروغلو نے کہا کہ اس مجوزہ نظام کو اگلے برس تک ریفرنڈم کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ رجب طیب اردوغان 2014 میں ترکی کے صدر منتخب ہوئے تھے، جو اس سے قبل ایک عشرے تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی پارٹی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کو مذکورہ نظام کے لیے ریفرنڈم کرانے کے سلسلے میں 550 سیٹوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں سے کم ازکم 330 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ طیب اردوغان کے صدر بننے سے قبل ترکش وزیراعظم کے پاس زیادہ اختیارات تھے تاہم موجودہ وزیراعظم بن علی یلدرم، طیب اردگان کے ماتحت نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اپنے انتخاب کے بعد سے طیب اردوغان ایگزیکٹو صدر بن چکے ہیں اور ان تبدیلیوں سے ترکی پر 'ایک شخص کی بادشاہت' ہوجائے گی۔ دوسری جانب ترکی کے مقامی اخبار ڈیلی حریت کے انقرہ کے بیورو چیف نے اس حوالے سے لکھا کہ نئے نظام کے تحت اردگان 2029 تک اقتدار میں رہ سکیں گے۔

.......

/169