3 نومبر 2016 - 11:24
دو بدعنوانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب امریکی عوام کی مجبوری!

الیکشن کی گرماگرمی کچھ ہی دنوں بعد ختم ہوجائےگی مگر امریکی عوام کے ذہن میں یہ سوال ہمیشہ باقی رہےگا کہ کیوں امریکی عوام صرف انہیں دو امیدواروں میں سے کسی ایک کو صدر کے طور پر منتخب کریں کہ جن کا پورا وجود بدعنوانیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے جنسی جرائم اور ہلیری کلنٹن کی سیاسی اور مالی بدعنوانیوں نے رائے دہندگان کو ملک کے مستقبل سے ناامید کردیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں صدارتی انتخابات کو چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ اور اکثر سروے کے نتائج میں ہلیری کلنٹن کو ہی فاتح قرار دیا جارہا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آخری ایام ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار کے لیے ڈراؤنا خواب بنتے جارہے ہیں۔

ایسے حالات میں ڈونالڈ ٹرمپ شاید حالات کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں اور لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارتخانے (جہاں پر ویکی لیکس کے بانی جولین اسانج موجود ہیں) سے آنے والی خبروں سے امید باندھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں جولین اسانج نے ہلیری کلنٹن کے کئی خفیہ ایمیلز جاری کردیئے ہیں، جس کا براہ راست ڈیموکریٹ امیدوار کی ساکھ پر پڑرہا ہے۔

ایف بی آئی نے اس سلسلے میں بتایا کہ ایمیلز کا معاملہ دوبارہ اٹھ رہا ہے اور یہ بات کلنٹن کو ووٹ دینے والوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اب تک 35000 خفیہ ایمیلز جاری کئے جاچکے ہیں اور ویکی لیکس نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید 15000 خفیہ ایمیلز عام کردیں گے۔

ویکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے یہ بھی کہا ہے کہ ان ایمیلز میں کافی مقدار میں ایسے مواد ہیں جن کی بنیاد پر ہلیری کلنٹن کی گرفتاری عمل میں آسکتی ہے۔ کلنٹن کی انتخابی مہم کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا کہ جب ویکی لیکس نے کچھ ایسے ثبوت فراہم کردیئے جن سے واضح ہوتا ہے کہ کلنٹن کی برنی سینڈرز پر برتری کے لیے امریکی حکّام نے کیا کیا گل کھلائے تھے۔ مزید برآں ویکی لیکس نے یہ بھی فاش کیا کہ بعد میں سینڈرز نے کلنٹن کی حمایت پیسے کی خاطر کی تھی۔

اب الیکشن کے آخری مراحل آگئے ہیں اور جولین اسانج ڈیموکریٹ امیدوار پر آخری وار کی تیاری کررہے ہیں۔ ان آخری ایام میں امریکی عوام کو بڑی شدت سے ویکی لیکس کے جدید انکشافات اور ایف بی آئی کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ اس سلسلے میں مخلتف تجزیئے سامنے آرہے ہیں جن میں بتایا جارہا ہے کہ یہ نئے اقدامات امریکہ کے سیاسی معاشرے پر کافی اثرانداز ہورہے ہیں۔

الیکشن کی گرماگرمی کچھ ہی دنوں بعد ختم ہوجائےگی مگر امریکی عوام کے ذہن میں یہ سوال ہمیشہ باقی رہےگا کہ کیوں امریکی عوام صرف انہیں دو امیدواروں میں سے کسی ایک کو صدر کے طور پر منتخب کریں کہ جن کا پورا وجود بدعنوانیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ کیا اس ملک میں ایک بھی ایسا انسان نہیں ہے کہ جو سیاسی، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے ملک کی قیادت کرسکتا ہو۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے جنسی جرائم اور ہلیری کلنٹن کی سیاسی اور مالی بدعنوانیوں نے رائے دہندگان کو ملک کے مستقبل سے ناامید کردیا ہے۔ امریکی نظام حکومت اپنے عوام کے جوابات دینے سے قاصر ہے۔

امریکہ مین انتخابی سسٹم اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ امریکی عوام صرف دو پارٹیوں میں سے کسی ایک کے امیدوار کو اپنا صدر بناسکتے ہیں۔ اور یہ دونوں پارٹیاں بھی محدود اور معدود افراد کو ہی الیکشن کے لیے کھڑا کرتی ہیں۔ گویا وہ عوام کے انتخاب سے پہلے ہی مستقبل کے لیے صدر کا انتخاب کرچکی ہوتی ہیں صرف دکھاوے کے طور پر عوام کو بیلٹ باکس پر بلایا جاتا ہے تاکہ جمہوریت کا نعرہ کھوکھلا ثابت نہ ہونے پائے۔

.......

/169