اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بان کی مون نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے شام کے پانچ سالہ بحران کو عالمی برادری کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا اور یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ دنیا مکمل شکست یا فتح کے دوراہے پر کھڑی ہے، ایک بار پھر کلیدی فریقوں سے اپیل کی کہ وہ شام میں جنگ بندی کے قیام اور امدادی کاموں کی بحالی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شام کی خانہ جنگی میں اب تک تین لاکھ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، اس ملک کی نصف آبادی بےگھر ہو چکی ہے اور اس کی اکثر بنیادی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، کہا کہ اس شکست اور ناکامی کو ایک ڈراؤنے خواب کی مانند سلامتی کونسل کے تمام ارکان کو ڈرانا چاہیے۔
بان کی مون نے شامی فریقوں پر امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کو ہدایت کی ہے کہ وہ شامی فریقوں کے درمیان غیرمشروط طور پر مذاکرات کے آغاز کے لیے کوشش کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ شام میں جنگ بندی اس ملک میں سیاسی حل کا راستہ ہموار کرے گی۔
.......
/169