اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے ایک تجزیہ نگار غلام حسن زرگر کولگامی صاحب کا کشمیر میں رواں شورش کے محرکات کے عنوان سے تجزیہ کہ جو وادی کے معروف روزنامہ "چٹان " میں شائع ہوا ہے کوقارئین کیلئے نقل کیا جا رہا ہے، مراسلہ نگار لکھتے ہیں: اس وقت وادی کشمیر کے لوگ سنگین صورت حال سے دوچار ہوگئے ہیں، لگ بھگ 82 کے قریب جوان اپنی جوانی کی بہار دیکھے بغیر ہی پیلٹ گن یا گولیوں کے شکار ہوگئے ہیں۔ وادی کشمیر میں ایسے حالات سے دوچار ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی سنہ 1947 سے ہی ہر تین چار سالوں کے وقفے کے بعد یہاں ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں یا پیدا کئے جاتے ہیں جنکے ردعمل کے طور پر یہاں سینکڑوں نوجوانوں کا خون ضائع ہوجاتا ہے، دراصل یہاں مسئلہ ہے جسکو سیاسی طور پر حل کرنے کی سنجیدہ طریقے سے کبھی کوششیں نہیں کی گئی ہے۔
شیخ محمد عبداللہ کی محاذ رائے شماری یا حق خود ارادیت کے نعروں کی گونج بھی سالہا سال تک وادی کے افق پر گونج پیدا کرتے رہی، اُس دوران بھی بہت سارے بے قصور لوگوں کا خون ضائع ہوگیا، پھر جب شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ مرکزی حکومت کی مصالحت ہوئی اسے اقتدار مل گیا، لیکن اس کا لاوا لوگوں کے دلوں میں کچھ سالوں تک دب کے ہی رہا، اسی طرح سے پی ڈی پی کانگریس کولیشن سرکار میں بھی جنگلات کی اراضی کا معاملہ کھڑا ہوا تو بہت سارے لوگوں کا خون ضائع ہوگیا، پھر عمر عبداللہ کی حکومت میں سنہ 2010ء کے جون اور جولائی کے مہینوں میں لگ بھگ 120 بے گناہوں کا خون تارکول کی طرح سڑکوں پر چھڑ کا گیا، اُس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت براجمان تھی۔
مرکزی حکومت نے کئی کمیٹیاں یا کورگوپس تشکیل دئے جنہوں نے کچھ سفارشات بھی کی تھیں لیکن سارا معاملہ بے سود ہی ثابت ہوا، یہ لاوا بھی یہاں کے عوام کے دلوں میں موجود ہی تھا جسکا اظہار یہاں کے لوگوں نے نومبر دسمبر 2014ء میں کچھ توڑ پھوڑ سا کیا اور نیشنل کانفرنس کو الیکشن میں ہرا کر پی ڈی پی کے حق میں کھلے ذہن کے ساتھ اپنے ووٹ دئے۔
چونکہ پی ڈی پی نے اپے وجود کو قائم کرتے وقت سے ہی سیلف رول ، افسپا کی واپسی، حریت لیڈران کے ساتھ اور ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرانے پر زور دینے کے وعدے کئے تھے، محبوبہ مفتی ہر اُس گھر میں تعزیت پرسی کیلئے جاتی تھی جس گھر کا ملیٹنٹ کسی تصادم میں مارا جاتا تھا، کشمیریوں کے دل جیتنے میں محبوبہ جی اور مفتی صاحب نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی، حتیٰ کہ سنہ 2014ء کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے خلاف الفاظوں کا استعمال کرنا اور بولنا اُنکے جلسوں او جلوسوں کا خاص موضوع رہا تھا، چونکہ عوامی منڈیٹ کے مطابق پی ڈی پی اور بی جے پی کو ہی ریاست کی باگ ڈور سنبھالنی تھی اور سیاست میں کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے اس لئے پی ڈی پی نے دو تین مہینوں کے صلاح ومشورے کے بعد کامن مینمم پروگرام یا ایجنڈا آف الائینس کے تحت حکومت سنبھالی۔ مفتی صاحب کے چند مہینوںکی حکومت کے دوران ہی جموں کے ادھمپور علاقے میں بیف معاملہ کھڑا ہوا جس میں دو تین کشمیری ڈرائیوروں کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئیں، یہ آگ پھر ملک کے دوسرے حصوں تک بھی پھیلنے لگی۔
مفتی صاحب اس دارفانی سے رخصت کر گئے تو انکی بیٹی محبوبہ جی نے دو تین مہینوں کے صلاح و مشورے کے بعد ایجنڈا آف الائینس کا سر نو جائزہ لینے کے بعد حکومت سنبھالی۔ کچھ ہی مدت کے بعد اخبارات کی سرخیوں میں یہاں وادی میں ریٹائیر سینک کالونیوں اور پنڈت برادری کیلئے علحیدہ کالونیوں نیز غیر ریاستی مزدوروں کیلئے رہائشی ہٹس تعمیر کرانے کے کالم چھپتے ہوئے دکھائی دئے۔
یہ معاملات کشمیریوں کو کچھ راس نہ آئے اور اسکے خلاف وادی بھر میں احتجاج شروع ہوئے بلکہ ریاستی اسمبلی میں کافی شور شرابے کے منظر دیکھنے کو ملے، یہاں کی اکثر سیاسی پارٹیوں نے بھی ان معاملات کو اُچھالا اور عام لوگوں کے ذہن یہی سمجھنے لگے کہ محبوبہ جی کی حکومت تعمیر و ترقی کے ایجنڈے کو بالائے طاق رکھ کر فروعی معاملات کی طرف زیادہ توجہ مرکوز کرنے کیلئے مجبور ہورہی ہے، اسی اثناء میں 7 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کا معاملہ بھی پیش آیا ، اسکے جنازے میں دور دراز سے مسافت طے کر کے لاکھوں لوگوں نے شرکت کی، اُس وقت سے لیکر تا ایں دم وادی کشمیر میں ہر قصبہ ، ہر علاقہ اور ہر گاؤں میں احتجاجوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے پارلیمنٹ میں بھی مسئلہ کشمیر کو سیاسی سطح پر حل کرانے کے بارے میں دو دفعہ گفت و شنید ہوئی۔ آل پارٹیز کے زعماء حضرات بھی ہوم منسٹر راج ناتھ کی قیادت میں تین دفعہ وارد کشمیر ہوئے لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا۔ نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ نے بھی یہاں آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی جس میں لنگیٹ کے انجینئر عبدالرشید نے اسمبلی ممبران سے استعفیٰ دینے کی تجویز بھی رکھی تھی، عمر عبداللہ صاحب نے بھی انجینئر رشید کی تجویز پر غور کرنے کی بات کہی تھی، حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران مظفر حسین بیگ صاحب نے محبوبہ جی کو کچھ حالات کے تناظر میں استعفیٰ دینے اور پارٹی بچانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اب کل پرسوں ہی ممبر پارلیمنٹ قرہ صاحب نے پارلیمنٹ کی ممبری اور پی ڈی پی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیا ہے لیکن جو دوسروں کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیتے تھے انہیں خود استعفیٰ دینے میں مصالحت نظر ہیں آرہی ہے۔ دراصل کسی کے استعفیٰ دینے یا نہ دینے سے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا ہے ، کشمیر ی لوگ اب بہت تنگ آگئے ہیں اب یہ سارا معاملہ مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں ہے، ریاستی حکومت بے بس ہوچکی ہے، یہاں کا خون خرابہ بند کرانا یا نہ کرانا مرکز کے ہاتھ میں ہی ہے۔
اب یہاں کے لوگ یہاں کی علاقائی پارٹیوں پر بھی اعتماد کھو بیٹھے ہیں، یہاں کی علاقائی پارٹیاں صرف بیان بازی پر ہی اپنے دن گزارتے ہیں عملی شکل میں کوئی پارٹی کچھ بھلا نہیں کرسکتی ہے کیونکہ ماضی کے تجربات بھی عوام کے سامنے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲