1 اگست 2016 - 03:01
یمن کی 85 فیصد آبادی غربت کا شکار: عالمی بینک

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں غریب افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہےاور ملک میں غربت کی شرح 85 فی صد سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد کا اندازہ 2.6 کروڑ لگایا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ العربیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں غریب افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں غربت کی شرح 85 فی صد سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد کا اندازہ 2.6 کروڑ لگایا گیا ہے۔

بینک کی رپورٹ کے مطابق " غربت میں اضافے کے نتیجے میں خرچ میں کمی آئی ہے ، عوامی سرمایہ کاری اور غریبوں کے لیے نقد امداد کے پروگرام منجمد ہوگئے ہیں ، اجرت الاؤنس اور بنیادی سماجی خدمات مثلا تعلیم ، صحت ، پانی اور بجلی پر خرچ میں کمی آئی ہے۔

عربی اخبار الحیات کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی نے بلیک مارکیٹ کے نمودار ہونے میں اہم کردار ادا کیا جہاں مقامی کرنسی (ریال) کی قدر میں اب تک ایک چوتھائی سے زیادہ کمی ہوچکی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یمن اس وقت جنگ ، تنازع اور تیل کی کم قیمتوں کے نتیجے میں جنم لینے والے روح فرسا بحران سے لڑ رہا ہے۔ بجٹ کے منافع میں تیل کی آمدنی کا حصہ 60 فی صد سے زیادہ ہے۔

بینک کے مطابق " جنگ ، آئل فیلڈز میں تخریب کاری کی کارروائیوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے 2015 کی مجموعی قومی پیداوار میں تیل کی آمدنی گر کر 3 فی صد رہ گئی جب کہ 2013 میں اس کی شرح 13 فی صد تھی۔ ایک ایسے ملک میں جس کی مجموعی قومی پیداوار تقریبا 38 ارب ڈالر ہو ، تیل کی آمدنی میں 4 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 کی مجموعی قومی پیداوار میں مالی خسارہ بڑھ کر 11.4 فی صد ہوگیا جب کہ اس کے گزشتہ سال یہ شرح 4 فی صد تھی۔

رپورٹ کے مطابق " 2015 میں بیرونی سرمائے اور تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی آنے سے مرکزی بینک کے غیرملکی اثاثوں پر شدید دباؤ آیا۔ 2013 میں 5.3 ارب ڈالر کی سطح پر موجود اثاثے کم ہو کر 2.1 ارب ڈالر رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲