30 اپریل 2015 - 10:24
وزیر خارجہ کی نیویارک یونیورسٹی میں تقریر

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے یمن پر سعودی عرب کے حملوں کو فوری طور پر روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے بحران یمن کے حل کے بارے میں اقوام متحدہ کے حکام سے بات چیت کی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق محمد جواد ظریف نے بدھ کے روز امریکہ کی نیویارک یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے یمن کے عوام کے لیے بھیجی جانے والی ایرانی امداد کو سعودی عرب کی جانب سے روکنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے قوانین کے مطابق اس امداد کو بھیجنے کے لیے ضروری اجازت نامہ حاصل کیا تھا- انھوں نے یمن کی قومی حاکمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یمن کا مسئلہ ایران کی تجویز پر عمل کر کے حل ہو جائے گا- ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد تمام پابندیوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایٹمی معاہدے کے لیے موقع پیدا ہو گیا ہے کہ جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے اور یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے فائدے میں ہے- محمد جواد ظریف نے کہا کہ معاہدے کے متن کی تیاری کا کام جمعرات سے نیویارک میں شروع ہو جائے گا- ایران چند جانبہ ڈپلومیسی کے ذریعے کوشش کر رہا ہے کہ لوزان میں حاصل ہونے والے اتفاق رائے کو تحریری شکل دی جائے- انھوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز کو روکنے کا، یمن کے بحران سے کوئی تعلق نہیں ہے- انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نہ صرف خلیج فارس میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کرتا ہے بلکہ تمام ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ جہاز رانی کی آزادی کا احترام کریں- ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کی جنوبی سمندری حدود میں واقع آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز کو روکنے کے سبب کے بارے میں کہا کہ یہ اقدام ایران کی عدالت کے حکم پر انجام پایا ہے اور اس کا یمن کے بحران سے کوئی تعلق نہیں ہے-

.......

/169