اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق "صلاح الدین اوزگوندوز" نے استنبول میں دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں عالم اسلام میں شیعہ اور سنی کے درمیان جاری لڑائی پر مبنی دعووں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم مشرق وسطی کا منصوبہ، عالم اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کئے جانے کے لئے انجام پارہا ہے۔ اوزگوندوز نے صومالیہ،الجزائر،تیونس،لیبیا اور مصر میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں میں سے کوئی ایک بھی شیعہ ملک نہیں ہے اور ان ملکوں میں شیعہ اور سنی جنگ بھی نہیں ہورہی ہے بلکہ ان ممالک میں تکفیری دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں۔ ترکی کے مذہبی رہنما نے یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے بارے میں کہا کہ یہ جو دعوی کیا جارہا ہے کہ یمن میں شیعہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ غلط ہے کیوں کہ انصاراللہ عقیدے کےاعتبار سے حنفی مذہب سے زیادہ قریب ہیں۔ انہوں نے اس پر بات پر تاکید کرتے ہوئۓ کہ ایران دنیا کے مظلوموں کا حامی ہے یہ سوال اٹھایا کہ کیا فلسطین کی آبادی شیعہ ہے جو ایران اس کے ساتھ ہے اور ہر ملک سے زیادہ فلسطنیوں کی مدد کررہا ہے؟ ترکی کے مذہبی رہنما نے کہا کہ ایران کے لئے شیعہ اور سنی کی اہمیت نہیں ہے۔ ایران سامراجی طاقتوں اور ان کے پٹھوؤں کے خلاف نبرد آزما ہے اور جو بھی سامراج کے خلاف جنگ کررہا ہے ایران اس کی حمایت کررہا ہے۔ انہوں نے علاقے میں سامراجی طاقتوں کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ شام، لبنان اور عراق کے تقسیم ہونے کی صورت میں نوبت ترکی تک آپہنچے گی اور اس وقت کوئی بھی ترکی کو تقسیم ہونے سے نہں روک سکے گا۔
.......
/169