15 اپریل 2015 - 04:49
سلامتی کونسل کی قرارداد پر انصاراللہ کا ردعمل

یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کی مجوزہ قرارداد کی حمایت پر سلامتی کونسل ہدف تنقید بناتے ہوئے اس قرارداد کو ظالمانہ قرار دیا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ایک سینیئر رہنما علی البخیتی نے ایک بیان میں یمن کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جاری کردہ قرارداد کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی قراردادوں سے یمنی عوام کے عزائم پست نہیں ہوسکتے اور وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے- انھوں نے کہا کہ یمنی عوام کو بیرون ملک سے ہتھیاروں کی فراہمی کی ضرورت نہیں ہے اسلئے سلامتی کونسل کے اس قسم کے فیصلوں سے یمن کی عوامی انقلابی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کو ان کے انقلاب کے راستے سے ہٹایا نہیں جاسکتا- البخیتی نے المیادین ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا چونکہ یمنی عوام کے خلاف اس قرارداد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اسلئے اس سلسلے میں کوئی خاص قسم کے ردعمل کا اظہار کئے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد میں رکن ملکوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یمن جانے والے بحری جہازوں کی تلاشی لیں- اس قرارداد میں، جو خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی جانب سے پیش کی گئی، یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے سربراہ اور اسی طرح یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بڑے بیٹے پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ان کے غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی عائد کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔

/169