اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کو قزاقستان کے صدر مقام آستانہ میں دانشوروں اور طلباء سے خطاب میں کہا ہےکہ ایران اور قزاقستان ایک دوسرے کے اہم حلیف بن سکتے ہیں- محمد جواد ظریف نے آستانہ کی کازگیوا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے راستے سے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قزاقستان کو خصوصی رعایت دینے کو تیار ہے- انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مغرب کی غیرقانونی پابندیوں اور تاریخ میں ملت ایران کی جانب سے مغرب کو ناقابل اعتماد سمجھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام مغرب پر اعتماد نہیں کرتے- انہوں نے کہا کہ ایران اور مغرب کے درمیان موجودہ مسائل کو حل کرنے میں کافی وقت لگے گا- وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پانچ جمع ایک گروپ کے نمائندوں کےساتھ تفصیلی مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو تحریری معاہدے میں تبدیل کرنا بڑا مشکل کام ہے کیونکہ فریق مقابل کی وعدہ خلافی کا خدشہ لگا رہتا ہے- انہوں نے کہا کہ پابندیوں اور دو طرفہ تعلقات کو ایک جگہ نہیں رکھا جا سکتا- ایران کے وزیر خارجہ نے علاقے میں داعش نامی گروہ اور اسے علاقے میں حاصل مالی اور فوجی حمایت کے بارے میں کہا کہ انتہا پسند گروہوں کی حمایت کرنے والوں کو یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ دہشتگردی صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مختلف علاقوں تک پھیلتی چلی جائے گی- اطلاعات کے مطابق شہر آستانہ کی کازگیوا یونیورسٹی نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو ڈاکٹریت کی اعزازی ڈگری دی ہے-
۔۔۔۔۔۔۔
/169