4 اپریل 2015 - 15:20
یمن پر حملے کے بارے میں سعودی حکام کے درمیان اختلافات

سعودی عرب کی ایک فعال اور سرگرم شخصیت نے کہ جو سعودی عرب میں حکمراں خاندان کے پس پردہ مسائل کو منظرعام پر لانے کی بنا پر "مجتہد" کے نام سے مشہور ہے، یمن پر زمینی حملے کے بارے میں سعودی حکام کے درمیان اختلافات کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی ایک فعال اور سرگرم شخصیت نے کہ جو سعودی عرب میں حکمراں خاندان کے پس پردہ مسائل کو منظرعام پر لانے کی بنا پر "مجتہد" کے نام سے مشہور ہے، یمن پر زمینی حملے کے بارے میں سعودی حکام کے درمیان اختلافات کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے-
العالم کی رپورٹ کے مطابق مجتہد کے نام سے مشہور اس شخصیت نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انکشاف کیا ہے کہ سعودی وزیر دفاع اور یمن کے خلاف کارروائی کے کمانڈر "محمد بن سلمان" اور وزیر داخلہ اور ولیعہد کے جانشین "محمد بن نائف بن عبدالعزیز" کے درمیان یمن پر زمینی حملے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے- مجتہد نے کہ جسے بہت سے ماہرین سعودی خاندان کے بارے میں انکشافات کرنے کی وجہ سے حکمراں خاندان کا ناراض فرد سمجھتے ہیں، اس اختلاف کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ محمد بن سلمان اب یمن پر زمینی حملہ کرنے کے لیے سخت بے تاب ہے لیکن اس کے مقابل محمد بن نائف اس کے خلاف ہے اور اس کی نظر میں جب تک پاکستانی فوج سعودی عرب نہیں پہنچ جاتی زمینی جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے- مجتہد نے مزید کہا کہ حکمراں خاندان کے اکثر ارکان محمد بن نائف کی نظر کی تائید کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں فیصلہ کرنے کا اختیار محمد بن سلمان کو حاصل ہے- محمد بن نائف کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ وہ امریکیوں کے ذریعے محمد بن سلمان کو زمینی حملے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس نتیجے پر پہنچنے ہیں کہ یہ کام صرف امریکی ہی کر سکتے ہیں-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲