اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ العالم کی رپورٹ کےمطابق عراقی حکومت کی کابینہ نے وزیر اعظم حیدرالعباری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں داعش کے اقدامات کو نسل کشی قراردیا ہے- اس اجلاس میں بادوش جیل کے قیدیوں کے قتل عام،اسپائکر ایر بیس کے نہتے کیڈٹوں کے بھیمانہ قتل عام اور البونمر، الجبور، اللھیب، العبید، قبیلوں کے افراد کو اجتماعی طور پر گولی مادئے جانے کے واقعات کو نسل کشی قراردیا گیا ہے- عراقی کابینہ کے اجلاس میں داعش کے ذریعے نہتے کردوں، عیسائیوں اور ایزدی شہریوں کو نینوا اور سنجار میں زبردستی ترک وطن پر مجبور کرنے اور تلعفر اور بشیر سے ترکمن شہریوں کو نکالنے جیسے اقدامات کا جائزہ لیا گیا- عراقی حکومت نے داعش کی مجرمانہ کاروائیوں کی فہرست جاری کرکے اس وحشی اور گمراہ گروہ کے بہیمانہ اقدامات کو نسل کشی سے تعبیر کیا ہے- عراقی حکومت نے کہا ہے کہ اسکی جانب سے داعش کے وحشیانہ اقدامات کو نسل کشی قراردینے سے اقوام متحدہ بھی داعش کے مجرمانہ اقدامات کو نسل کشی قراردے گی کیونکہ عراق نے اس قسم کے وحشیانہ اقدامات کے خلاف انیس سو اڑتالیس کے عالمی معاہدے کے مطابق یہ کام کیا ہے- عراق نے انیس سو پچاس کی دہائی کے آخر میں اس عالمی قانون پر دستخط کئے تھے- ادھر موصل شہر میں حریت پسند افسروں نامی تنظیم کے رکن موفق الدلیمی نے کہا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے نام نہاد مالی ادارے کا سربراہ ابو قتادہ السوری عراق کے شمالی علاقے میں ہلاک کردیا گیا ہے- اس درمیان عراقی فضائیہ نے الکرمہ علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کی ہے جس میں داعش کو شدید نقصان پہنچا ہے- بغداد آپریشنل کمان نے کہا ہے کہ فضائیہ کی بمباری میں دہشتگردوں کی بہت سے گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲