اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دفترخارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ توسیع پسندانہ مطالبات کے مقابلے میں ایرانی عوام کی قابل ستائش استقامت اور اسی طرح ایرانی مذاکرات کاروں کی مسلسل کوششیں ایرانی عوام کے جوہری حقوق کے استحکام کا باعث بنی ہیں۔ مرضیہ افخم نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، لوزان میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات کے بارے میں کہا کہ مذاکرات بہت اہم اور حساس طور پر جاری ہیں جبکہ گروپ پانچ جمع ایک کی سطح پر سیاسی امور کے ڈائریکٹروں کے درمیان بھی مذاکرات ہوں گے۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا کہ ایران کے جوہری مذاکرات کار، فاصلہ کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ تیکنیکی مسائل پر ہونے والی گفتگو میں کافی پیشرفت ہوئی ہے اور جیساکہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اپنے انٹرویو میں اشارہ بھی کہا ہے، کافی حد تک تیکنیکی مسائل حل ہوچکے ہیں تاہم سیاسی شعبے میں اور پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں- انھوں نے ایران کے امور میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی رپورٹر احمد شہید کی، ایران مخالف رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اس رپورٹ کا سیاسی ہونا، مکمل طور پر واضح ہے اور اس رپورٹ میں انسانی حقوق کے امور و ضوابط سے ہٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مرضیہ افخم نےایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں انسانی حقوق کے مسائل سے کہیں بڑھ کر مقاصد کے حصول کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، انسانی حقوق کے مسئلے میں متعلقہ حکام اور کونسل کے ساتھ بھرپور تعاون کرتا رہا ہے اور انسانی حقوق کونسل میں ایران کی بھرپور موجودگی اور اسی طرح ایران کی جانب سے تیار کی جانے والی سالانہ رپورٹ، تعاون کا ایک نمونہ ہے۔ ایران کے دفترخارجہ کی ترجمان نے یمن کیلئے خوراک اور دواؤں کی امداد کے ضمن میں ایران کی فوجی امداد سے متعلق بعض رپورٹوں کا ذکرکرتے ہوئے تاکید کی کہ ان رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں پائی جاتی اور یمن کیلئے ایران کی امداد، اقتصادی اور انسانی بنیادوں کی حامل رہی ہے کہ جن کے بارے میں پہلے ہی سمجھوتے طے پاچکے تھے مگر ان پر عملدرآمد کا موقع، فراہم نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے مقاصد کے حصول میں ناکامی سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بیان کے بارے میں بھی کہا کہ اس کا ایک واضح نمونہ، فلسطین کا مسئلہ ہے کہ سلامتی کونسل کے بعض ارکان اور مستقل اراکین، صیہونی حکومت کی بے دریغ حمایت کرکے فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ہیں۔ انھوں نے تاکید کی کہ توقع اس بات کی ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں کی شمولیت سے اقوام متحدہ کی کارکردگی کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات عمل میں لائے جائیں گے اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مسئلہ، ایک ایسا مسئلہ ہے جسے تمام ملکوں شراکت سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے تاکہ اس عالمی ادارے کی کارکردگی کو فروغ دینے میں موثر اقدامات انجام دیئے جاسکیں۔
.......
/169