اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ویانا میں ہتھیاروں پر کنٹرول اور فوجی سلامتی کے مذاکرات میں روس کی وزارت خارجہ کے وفد کے سربراہ آنتھون مازورا نے ایک بیان میں کہا ہے ماسکو گیارہ مارچ دوہزار پندرہ سے، یورپ میں روایتی ہتیھیاروں کے معاہدے کے دائرے میں مکمل طور پر اپنا تعاون روک کررہا ہے۔ اسی بناء پر اعلان کیا گیا ہے کہ روس اس معاہدے سے وابستہ مشاورتی گروپ کے، آئندہ ہفتے کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ روس نے بیلاروس سے ان مذاکرات میں روسی مفادات کا محافظ بننے کی درخواست کی ہے۔ سی ایف ای معاہدے کو یورپ میں سرد جنگ کے اختتام کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا کہ جس پر انیس سو نوے میں نیٹو اور وارسا پیکٹ کے ممبر ملکوں کے درمیان دستخط کئے گئے تھے۔ مشرقی یوکرین میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے سبب روس اور مغرب کے درمیان پائی جانےوالی کشید گی سابق سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد کے برسوں میں سب سے سنگین محاذ آرائی شمار ہوتی ہے- نیٹو اتحاد نے گذشتہ ایک برس میں مشرقی یورپ میں نمایاں طور پر اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور نیٹو افواج نے گذشتہ سال دو سو فوجی مشقیں انجام دی تھیں۔ روس نے بارہا ان فوجی مشقوں کے انعقاد کی مذمت کی ہے جبکہ نیٹو کے سکریٹری جنرل مشرقی یورپ میں ان مشقوں کے جاری رہنے پر تاکید کر رہے ہیں۔ نیٹو کے ممالک نے بحیرہ اسود میں منگل کے روز سے نئی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کیاہے۔ یہ فوجی مشقیں امریکی جنرل ایڈمیرل برڈ ویلیمسن کی کمان میں انجام پارہی ہیں۔ ان فوجی مشقوں میں امریکہ، کینیڈا ، ترکی ، جرمنی ،اٹلی، رومانیہ اور بلغاریہ کے بحری بیڑے شرکت کررہے ہیں۔ مشرقی یورپ کے بعض ممالک میں ٹاسک فورس کے مراکز کے قیام کا منصوبہ بھی نیٹو کے دیگر پروگراموں میں سے ہے کہ جن پر ماسکو نے رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ بالٹک کی ریاستوں اور مشرقی یورپ میں بھی نیٹو کے جدید ہتھیاروں کی تعیناتی کے سبب روس کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں کرملین اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ سی ایف ای جیسے معاہدوں میں شامل رہ کر نامناسب حالات سے دوچار ہے کہ جس کے نتیجے میں، مشرقی یورپ میں نیٹو کی کاروائیوں کے مقابلے میں روس کی فوجی توانائی کمزور پڑجائے گی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲