اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کےسینتالیس سینیٹروں کے ذریعے ایرانی رہنماؤں کو بھیجے گئے خط کے بارے میں کہا ہے کہ میرے خیال میں اس خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک تشہیراتی حربہ ہے - وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ملک کی پارلیمنٹ کے بعض ممبران اپنے ہی صدر اور حکومت کے خلاف دوسرے ملکوں کے رہنماؤں کو خط لکھیں، کہا کہ ممکن ہے اس خط پر دستخط کرنے والے سینیٹروں کو اس بات کا پوری طرح علم ہی نہ ہو کہ بین الاقوامی قوانین اور تعلقات میں حکومتیں ملک کی حاکمیت کی نمائندہ اور خارجہ تعلقات کی ذمہ دار اور ان معاہدوں پر عمل درآمد کی پابند ہوتی ہیں جو وہ دوسری حکومتوں کے ساتھ کرتی ہیں- وزیرخارجہ جواد ظریف نےکہا کہ یہ افراد داخلی اصول و قوانین کے بہانے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد سے سرپیچی نہیں کر سکتے اور کسی بھی ملک میں حکومت کی تبدیلی اس ملک کے بین الاقوامی معاہدوں کے منتفی ہونے کےمترادف نہیں ہوتی- وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ میں ہر حکومت ان وعدوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کی پابند ہے جو اس ملک کی موجودہ حکومت ایک ممکنہ ایٹمی سمجھوتے کے بارے میں انجام دے گی اور اگرامریکا کے آئندہ صدر نے مذکورہ سینیٹروں کے مطابق بیک جنبش قلم امریکہ کے بین الاقوامی معاہدوں کو ختم کیا تو وہ واضح طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا- واضح رہے ہکہ امریکہ کے سینتالیس ریپبلکن سینیٹروں نے ایران کے رہنماؤں کے نام ایک کھلے خط میں اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا ایٹمی معاہدہ باراک اوباما کا دور صدارت ختم ہونے کے بعد معتبر نہیں رہے گا-دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے امریکی سینیٹروں کے اس خط کی مذمت کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲