اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے دفترخارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے منگل کے روز ایک بیان میں امریکی کانگریس سے صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو کے خطاب کو صیہونی حکومت کے طرفداروں میں بھی گمراہ کن اور انتہا پسندگروہوں کی کے الگ تھلگ ہوجانے اور کمزوری کا مظہر قرار دیا- انھوں نے کہا کہ نتن یا ہو کا خطاب، عالمی سطح پر انتہا پسندانہ اور گمراہ کن افکار کو مسلط کرنے کی ایک کوشش ہے- ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اب اس حقیقت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے کہ عالمی رائے عامہ کی نظر میں بچوں تک کا قتل عام کرنے والی صیہونی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے- مرضیہ افخم نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے زہریلے پروپیگنڈے کو تکراری اور تھکا دینے والا قرار دیا اور کہا کہ ایران کے سنجیدہ اور منطقی عزم و ارادے کے ساتھ جاری مذاکرات سے، پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف خودساختہ بحران اور ایرانو فوبیا کی پالیسی شکست سے دوچار ہوچکی ہے اور اسی لئے ایران کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کے بانی، بری طرح سے تلملائے ہوئے ہیں- ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے ایران مخالف بیان میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور انھوں نے وہی بات کہی ہے جو صیہونی حکام ، انتہا پسندی اور غلط فہمیوں کے نتیجے میں دوہرایا کرتے ہیں- انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت،فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم،ریاستی دہشتگردی کی ترویج اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنا پر عالمی سطح پر ماضی سے کہیں زیادہ تنہا ہوگئی ہے اور غزہ کے عوام پر مظالم اور ان کے خلاف وحشیانہ جرائم کے ارتکاب کے مسئلے کو عالمی رائے عامہ کے اذہان سے مٹانے کی کوئي کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی- واضح رہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے منگل کے روز امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف بے بنیاد دعؤوں کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران، اسرائیل سمیت پوری دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے-دوسری جانب ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ تہران یمن کے عوام کے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے تاکہ اس ملک میں مفاہمت اور سیاسی عمل شروع ہوسکے اور یہ کہ یمن کی صورت حال پر مکمل حساسیت کے ساتھ نظر رکھے جانے کی ضرورت ہے اور تمام ملکوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کریں- مرضیہ افخم نے عراقی شہروں کو آزاد کرانے کی کاروائیوں میں ایران کے القدس بریگیڈ کے کمانڈر کی موجودگی کے بارے میں بھی کہا کہ ایران، عراق میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کے آغاز سے ہی مشیروں کی سطح پر تعاون کرتا رہا ہے اور دہشتگرد گروہوں پر غلبہ پانے میں ایران نے حکومت عراق کی مدد کی ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲