اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کو ایران کے مقدس شہر قم میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا اختتام اور حتمی سمجھوتہ ایران کے خلاف عائد تمام ظالمانہ اور غیرقانونی پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ہونا چاہئے۔ صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پابندیاں، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں کہا کہ ایرانی عوام مذاکرات کے دوران نہ تو تسلط قبول کریں گے اور نہ ہی اپنے خلاف جاری پابندیوں کو برداشت کریں گے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ حکومت نے خارجہ پالیسی میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی راہ میں اہم قدم اٹھایا ہے اور ایران کے خلاف پابندیوں کے سلسلے میں جنیوا کا عارضی سمجھوتہ بھی ایران کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں ميں سے ایک ہے۔ ڈاکٹر روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران عالمی سطح پر گوشہ نشیں نہيں ہوا ہے کہا کہ حکومت نے درپیش مسائل و مشکلات منجملہ ایٹمی معاملے کے حل کے لئے اعتدال کی راہ اپنائی ہے اور اس راہ پر قائم رہےگی- انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا نعرہ دنیا کے ساتھ تعمیری تعاون ہے اور ہم اس پر عمل کرتے رہیں گے۔ صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے کہا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہئےکہ حکومت نے گذشتہ اٹھارہ مہینے میں معاشی میدان میں اہم قدم اٹھائے ہيں اور اس راہ میں اسے عوام، رہبرانقلاب اسلامی اور مراجع کرا م کی حمایت حاصل رہی ہے۔ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ترقی وپیشرفت کے لئے اتحاد و يگانگت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ایران میں اتحاد ویگانگت اور انقلابی تحریک کی آواز قم سے بلند ہوئي ہے- صدر حسن روحانی ،کابینہ کے بعض اراکین کے ہمراہ بدھ کی صبح قم پہنچے، جہاں وہ عوام کے مختلف طبقوں اورمراجع عظام سے ملاقات کریں گے اور قم صوبے کے بعض ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲