اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اس سلسلے میں یوکیا امانو نے میونیخ میں سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر رائٹر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم، اب حیاتی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اسلئے ہمیں چاہیئے کہ ماضی کے مسائل کی شفافیت کیلئے زیادہ سے زیادہ کوشش اور آئندہ کے مسائل کیلئے تیاری کریں- اپنے اس انٹرویو میں یوکیا امانو نے بالواسطہ طور پر بلا ثبوت، یہ دعوی کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہوسکتا ہے کہ فوجی مقاصد کی طرف منحرف ہوا ہو- اس بارے میں امانو نے ایران کی جوہری تنصیاب سے ہٹ کر ان دیگر تنصیبات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن کا معائنہ کا اعلان نہیں ہوا ہے- یوکیا امانو نے کہا ہے کہ یہ معائنے، اضافی پروٹوکول پر مبنی نیز آئی اے ای اے کیلئے حیاتی وسیلے کی حیثیت رکھتے ہیں- میونیخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو نے ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملاقات کی جس کے بعد انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کو چاہیئے کہ اس سمجھوتے کے بارے میں، جو اس نے طے کیا ہے، اقدامات بھی عمل میں لائے، اسلئے کہ ممکنہ فوجی پہلؤوں سے متعلق مسائل میں شفافیت اور اسی طرح اضافی پروٹوکول پر عمل کئے جانے کی اس وقت کہیں زیادہ ضرورت ہے- ایران اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے گیارہ نومبر دو ہزار تیرہ میں، تعاون سے متعلق ایک مشترکہ بیان پر دستخط کئے تھے جس کی بنیاد پر پہلے اور دوسرے مرحلے میں تیرہ اور تیسرے مرحلے میں پانچ عملی اقدامات پر سمجھوتہ ہوا- ان اقدامات کے پیش نظر آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے سلامتی کونسل کے نام اپنی منظم رپورٹوں میں ایران کی جانب سے سولہ عملی اقدامات کی تصدیق کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ دو اور عملی اقدامات پر، کام شروع ہوچکا ہے- چنانچہ میونیخ کانفرنس کے موقع پر یوکیا امانو کے بیان سے، اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے سلسلے میں، وہ اب بھی پرانا راگ الاپ رہے ہیں اور وہ ایران کے پرامن پروگرام کو سیاسی عینک سے دیکھ رہے- یوکو آمانو کا یہ طریقہ کار اس بے بنیاد دعوے کا اعادہ ہے، کہ ایران کا جوہری پروگرام ممکنہ طور پر ہتھیار بنانے کی طرف آگے بڑھ سکتا ہے- تاہم یہ امر آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کے تکنیکی معاملات اور تعاون کے حوالے سے صرف ایک بہانہ ہے جسے یوکیو آمانوں بدستور برقرارکھنا چاہتے ہیں- بہرحال یوکیو آمانو کے اس طرز عمل سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ بعض ممالک آئی اے ای اے کو بطور سیاسی وسیلہ استعمال کر رہے ہیں- چنانچہ امریکہ،آئی اے ای اے کی ان ہی منگھڑت رپورٹوں سے فائدہ اٹھاکر عالمی سطح پر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل میں کوشاں ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲