5 فروری 2015 - 16:57
روس کا داعش کے حامی ملکوں سے مطالبہ، داعش کی امداد بند کی جائے

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک مسودہ قرارداد پیش کیاہے جس میں داعش دہشت گرد گروہ کو بعض ملکوں کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اہل بی(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک مسودہ قرارداد پیش کیاہے جس میں داعش دہشت گرد گروہ کو بعض ملکوں کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے کے ترجمان آلکسی زایتسف نے کہا ہے کہ اس مسودہ قرارداد میں، عراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل کی فروخت کے ذریعے حاصل ہونے والی غیرقانونی آمدنی کے حصول پر روک لگائے جانے کا مطالبہ کیا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو امید ہے کہ یہ مسودہ قرارداد آئندہ چند دنوں میں سلامتی کونسل میں منظور کرلیاجائے گا- اقوام متحدہ میں روسی مندوب کے  ترجمان  نے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک داعش سے تیل خریدتے ہيں اور یہ اقدام  اس دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے ان کے سرکاری موقف سے تضاد رکھتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے بھی  بدھ کے روز ایک بیان جاری کرکے داعش کے ہاتھوں اردنی پائلٹ کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اس دہشت گرد گروہ کا مل کر مقابلہ کرنے پر زور دیا ہے- اس بیان میں کہا گیا ہےکہ داعش کے ہاتھوں اردنی پائلٹ کے بہیمانہ قتل نے ایک بار پھر اس دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے تعاون کو ضروری بنادیا ہے- واضح رہے کہ داعش گروہ نے منگل کے روز ایک ویڈیو ٹیپ جاری کیا تھا جس میں چھبیس سالہ اردنی پائلٹ کو زندہ جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے- اردن کے اس پائلیٹ کو داعش کے عناصر نے گذشتہ سال دسمبر میں شام کے شہر الرقہ کے قریب اس وقت یرغمال بنالیا تھا جب اردن کا ایف سولہ جنگی طیارہ گرکر تباہ اوراس کا ہوابازمعاذ الکساسبہ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگیا تھا- اس بیان میں کہا گیا ہے کہ روس، داعش کی دہشت گردانہ ماہیت سے  اچھی طرح واقف ہے اور عالمی برادری سے اس کی اپیل ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کے خلاف دوہرا معیار اپنائے بغیر اس کامقابلہ کرے۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے اعلان کیا ہے کہ داعش، بچوں کے ساتھ انتہائی سفاکانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ بعض اوقات داعش کے عناصر بچوں اور اٹھارہ سال سے کم عمرکے نوجوانوں کو خودکش حملے کرنے، دستی بم بنانے اور فضائی حملوں کے دوران اپنی تنصیبات اور مراکز کی حفاظت کے لئے انہیں انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرتےہیں- بعض رپورٹوں میں یہ بھی کہا گيا ہے  کہ داعش کے عناصر ذہنی طور پرمعذور بچوں کو خود کش حملوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ خبروں میں یہ بھی بتایاگيا ہے کہ ایسے ویڈیو موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ داعش  گروہ آٹھ سال سے کم عمر کے بچوں کو ٹریننگ دے رہا ہے تاکہ وہ بھی داعش کے عناصر میں تبدیل ہوجائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲