اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لیبیا کے متحارب گروہوں کے درمیان یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی ثالثي میں ہورہے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے دور میں متحارب فریق قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے روڈمیپ پر متفق ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے لیبیا کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈو لئون نے گذشتہ چودہ جنوری کو جب ان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا خبردار کیا تھا کہ لیبیا اس وقت مسلح گروہوں کی ٹریننگ کے مرکز اور دہشت گردوں کے اڈے میں تبدیل ہورہا ہے۔ اسی طرح کا انتباہ لیبیا کے حکام اور دیگر ممالک بھی دے چکے ہيں۔ لیبیا میں دوہزار گیارہ سے جب سے معدوم ڈکٹیٹر معمرقذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے جنگ و خونریزی کا سلسلہ جاری ہے۔ لیبیا میں دو حریف اور متوازی حکومتیں اور اسی طرح ان سے وابستہ مسلح گروہ ملک کے اہم شہروں پر اپنا قبضہ کرنے کے لئے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہيں۔ ان گروہوں کی کوشش ہے کہ جیسے بھی ہو تیل سے مالا مال علاقوں پر ان کا کنٹرول ہوجائے۔ جنیوا میں پیر کو دوسرے دور کے مذاکرات میں لیبیا کی مختلف سیاسی جماعتوں اور سیول سوسائٹی کے نمائندےشریک ہيں۔ فجرملیشیا نے جس نے پچھلے ستمبر کے مہینے سے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کررکھا ہے باضابطہ طور پران مذاکرات میں شرکت نہيں کی ہے تاہم فجرملیشیا نے گذشتہ چودہ جنوری کے مذاکرات کے بعد لیبیا کی فوج کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا۔ پیر کو ہونےوالے مذاکرات میں بھی دارالحکومت طرابلس میں سرگرم فجرملیشیا کے حکام کو چھوڑ کر دیگر شہروں منجملہ مصراتہ میں فجرملیشیا کی شاخ کے عہدیداروں نے حصہ لیا ہے۔ لییبا کے بحران سے متعلق ہونےوالے مذاکرات میں شریک اقوام متحدہ کے خصوصی وفد نے اعلان کیا ہے کہ معمول کے ان مذاکرات کے علاوہ جو پیر کو شروع ہوئے ہيں اسی ہفتے جنیوا میں ہی ایک اور اجلاس ہوگا جس میں لیبیا کے سبھی شہروں کی بلدیاتی کونسلوں کے ممبران اور میئرشریک ہوں گے تاکہ اعتمادسازی کے اقدامات آسانی کے ساتھ انجام دیئے جاسکیں۔
دوسری جانب لیبیا سے ہی خبر ہے کہ اتوار کو بیضا شہر کے ایک ہوٹل سے اغوا ہونے والے لیبیا کے نائب وزیرخارجہ کو رہا کردیا گیا ہے۔ لیبیا کے نائب وزیرخارجہ حسن الصغیر نے مسلح افراد کے قبضے سے رہائي کے بعد ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی رہائي کی تصدیق کردی اور کہا کہ وہ خیریت سے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی ایک پریس کانفرنس کرنےوالے ہيں۔ نامعلوم مسلح افراد نے اتوار کو بیضا شہر سے جہاں اس وقت لیبیا کی عبوری حکومت کا عبوری ہیڈآفس ہے لیبیا کے نائب وزیرخارجہ کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔ مسلح افراد نے ہوٹل میں داخل ہونے سے قبل خود کو سیکورٹی اہلکار بتایا تھا لیکن لیبیا کی فوج اور وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ان افراد کا سیکورٹی فورس سے کوئی تعلق نہيں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲