22 جنوری 2015 - 10:08
بیس رکنی بین الاقوامی وفد کا غزہ پٹی کا دورہ

دنیا کے نو ممالک کے سفارت کاروں کے بیس رکنی وفد نے غزہ پٹی میں رہنے والے فلسطینوں کی زندگي کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اس علاقے کا دورہ کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر جیمز راولی اور اقوام متحدہ کے امداد رسانی کے ادارے انروا کے سربراہ رابرٹ ٹرنر سمیت دنیا کے نو ممالک کے بیس رکنی سفارتی وفد نے غزہ پٹی کا دورہ کیا اور صیہونی حکومت کے حملوں اور اس کے ذریعے غزہ پٹی کے مسلسل محاصرے کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی باشندوں کی صورت حال سے متعلق آگاہی حاصل کی۔ جیمز راولی کے بقول غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملے میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی بےگھر ہوئے کہ جن میں نصف سے زیادہ بچے ہیں اور وہ انتہائی برے اور سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ راولی نے اس بات پر زور دیا کہ بے گھر ہوجانےوالے فلسطینیوں کو اپنے گھروں کی تعمیرنو اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے زیادہ مالی مدد کی ضرورت ہے اور غزہ پٹی کا بحران گزشتہ موسم گرما میں نہیں بلکہ سات سال پہلے شروع ہوا۔ جولائی دو ہزار چودہ میں غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے پچاس روزہ حملوں میں دو ہزار تین سو سے زیادہ فلسطینی شہید جبکہ گیارہ ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے گھر اور بنیادی تنصیات تباہ ہو گئيں۔ اس درمیان تازہ صورتحال یہ ہے کہ غزہ پٹی میں انتہائی سرد موسم اور بہت سے فلسطینیوں کو جائے پناہ نہ ملنے کی وجہ سے چار بچوں سمیت کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی میں اسلامی مزاحمت اور فلسطین کی حمایت کے دھڑے کے سربراہ نے کہا ہے کہ حق کا دفاع کرنےکا دعوی کرنےوالے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے لئے باطل سے حق کی تشخیص کا معیار و ملاک اس وقت مظلوم فلسطینی عوام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک اس صورتحال میں مظلوم فلسطینی عوام کی جتنی زیادہ مدد وحمایت کریں گے وہی درحقیقت باطل کے مقابلے میں حق کے طرفدار ہیں مجتبی رحمان دوست نے ہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے حالات خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی کاروائياں موجودہ بحران کا ایک حصہ ہیں اور ان بحرانوں میں سرفہرست فلسطین اور غزہ کا مسئلہ ہے۔ مجتبی رحماندوست نے اس بات پر زور دیا کہ عالم اسلام کا اصل مسئلہ فلسطین اور قدس شریف ہے اور علاقے میں رونما ہونے والے ديگرواقعات کی ثانوی حیثیت ہے کہ جن کی بازگشت اسی بنیادی مسئلے کی طرف ہے۔

.......

/169