18 جنوری 2015 - 09:05
فرانس کی اشیاء پر پابندی عائد کی جائے/ مرگ بر فرانس کا نعرہ بھی لگایا جائے

حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے کہا: ان کا یہ مقصد ہے کہ وہ یورپ کے لوگوں کو اسلام سے دور کریں ان کا گمان یہ ہے کہ اسلام، پیغمبر اکرم، قرآن کریم یا دیگر دینی مقدسات کی توہین کر کے لوگوں کو اسلام سے متنفر کر دیں گے حالانکہ بالکل ایسا نہیں ہے بلکہ بالعکس لوگ ان نازیبا اقدامات کی وجہ سے مزید اسلام کے بارے میں مطالعہ کریں گے اور اسلام سے قریب ہوں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے فرانس کے رسالے شارلی ہیبڈو کے ذریعے رسول اسلام (ص) کی شان میں کیے جانے والے گستاخانہ اقدامات کے حوالے سے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان اقدامات کے پشت پردہ پنہاں عوامل کو دیکھا جائے تو یقینا یہ ایک سیاسی سازش لگتی ہے جو عالمی سامراج اور اسرائیلی مقاصد کے تحت انجام پا رہی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فرانس کی حکومت بھی یورپ کے دیگر اسرائیل نواز ممالک کی طرح عالمی سامراج کے مقاصد کی حمایت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا: اس طرح کے اقدامات کے پیچھے جو سیاسی عوامل ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت حقیقی اسلام کی عظمت روشن ہو رہی ہے اور یورپ اور امریکہ کے اندر جوان دوسرے مذاہب سے اکتا کر اسلام کی طرف پناہ لے رہے ہیں اور اسلام انہیں کامل دین نظر آرہا ہے۔ دنیا اسلام کی طرف راغب ہو رہی ہے لہذا جب سامراجی طاقتیں اس بات کو دیکھتی ہیں تو ایک طرف سے مسلمانوں کے درمیان دھشتگرد پیدا کر کے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف اس طرح کے نازیبا اقدامات کر کے سوچتے ہیں کہ اسلام کی محبت کو جوانوں کے دلوں سے مٹا دیں گے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے کہا: ان کا یہ مقصد ہے کہ وہ یورپ کے لوگوں کو اسلام سے دور کریں ان کا گمان یہ ہے کہ اسلام، پیغمبر اکرم، قرآن کریم یا دیگر دینی مقدسات کی توہین کر کے لوگوں کو اسلام سے متنفر کر دیں گے  حالانکہ بالکل ایسا نہیں ہے بلکہ بالعکس لوگ ان نازیبا اقدامات کی وجہ سے مزید اسلام کے بارے میں مطالعہ کریں گے اور اسلام سے قریب ہوں گے۔
انہوں نے اس حوالے سے کہ مسلمانوں کے اس طرح کے اہانت آمیز اقدامات کے مقابلے میں کیا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے کہا: تمام مسلمانوں، اسلامی حکومتوں اور روشن خیال لوگوں کو اپنی ذمہ دار کا احساس کر کے اپنی نفرتوں کا اظہار کرنا چاہیے اور اس اقدام کے خلاف آواز بلند کرنا چاہیے مجھے تعجب ہے کہ لوگ مظاہروں میں ’’مرگ بر امریکہ‘‘ ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں جبکہ انہیں اس کے ساتھ ساتھ مرگ بر فرانس کے نعرے لگانے چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرانس کی حکومت کو اس طرح کے اخباروں کی ہرگز حمایت نہیں کرنا چاہیے فرانس بھی دوسرے استعماری ممالک کی طرح اسلامی ممالک میں دھشتگردوں کی حمایت کر رہی ہے تمام مسلمانوں کو فرانسوی حکومت کے خلاف رد عمل ظاہر کرنا چاہیے اور اپنے اپنے ممالک میں فرانسوی چیزوں پر پابندی عائد کی جانے چاہیے۔

..............

242