اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، روہنگيا انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ7 نومبر 2014 سے 4 جنوری 2015 کے درمیان میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام، ان کے خلاف تشدد اور انہیں اذیتیں دیے جانے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا بھی یہ خیال ہے کہ روہنگيا مسلمان، دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم مسلمان ہیں۔ میانمار کے یہ مسلمان اب بھی بڑے پیمانے پر تشدد کا شکار ہیں۔ ان کے خلاف بدھ مذہب کے شدت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
الاراكاني نے کہا کہ انتہا پسند بدھ مذہب سے شدت پسندوں نے روہنگيا مسلمانوں کے بہت سے گھروں کو جلا دیا ہے جس کی وجہ سے 20 ہزار روہنگيا، اپنے رشتے داروں کے پاس رہ رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ميانمار کے حکام نے تقریبا دو ہفتے پہلے سے روہنگيا مسلمانوں کے خلاف ایک نئی سازش شروع کر دی ہے جس کے تحت رات کے وقت ان کے گھروں پر حملہ کرنا اور متعدد بے بنیاد دعووں کے پشت پردہ ان کو گرفتار کرنا ہے ۔ اس کے ذریعے وہ روہنگيا مسلمانوں سے پیسے بھی وصول کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ابھی حال ہی میں دنیا کی کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشترکہ طور پر رپورٹ جاری کر ميانمار میں روہنگيا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے مظالم کا ذکر کیا تھا۔
.......
/169