اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے وینزوئیلا کے صدر نیکلس ماڈورو کے ساتھ ملاقات میں صہیونی حکومت کے ساتھ مقابلے میں وینزوئیلا کے موقف اور اقدامات کی قدردانی کے ساتھ، وینزوئیلا کے ساتھ سامراجی محاذ کی دشمنی کی وجہ کو بہادرانہ مواقف پر دباؤ اور لاطینی امریکہ کے اسٹریٹجیک علاقے پر اثرو رسوخ بڑھانا قرار دیا۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی طرح کم مدت میں تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کو سیاسی اور غیر اقتصادی تحرّک قرار دیا اور فرمایا کہ ایران اور وینزوئیلا کے مشترکہ دشمن، تیل کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور تیل کی قیمت میں شدید کمی میں یقینی طور پر ان کی ملی بھگت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تیل کی قیمت میں کمی کے مقابلے کے لئے ایران اور ونزوئیلا کے صدور کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے فرمایا، البتہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون صرف تیل کے مسائل پر منحصر نہیں اور حتمی طور پر تجارتی لین دین اور دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کی سطح میں اضافہ کیئے جانے کی ضرورت ہے ، کہ جو توقعات سے کم ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علاقائی اور عالمی سطح میں ونزوئیلا کی مزاحمت، مواقف اور اقدامات کو سراہاتے ہوئے فرمایا کہ لاطینی امریکہ کے ممالک وینزوئیلا کے لئے اہم اسٹراٹیجیک پوائنٹ ہیں اور وینزوئیلا کا نصب العین، اس علاقے کی اکثر قوموں میں بیداری کا باعث بنا ہے، اور یہی مسئلہ وینزوئیلا کی حکومت اور قوم کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کی وجہ ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کی 50 روزہ جنگ میں وینزوئیلا کی حکومت کے ٹھوس اور اچھے مواقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غاصب صہیونی حکومت، دنیا خاصطور پر مشرق وسطی کی قوموں کے درمیان مکمل طور سے نفرت کی علامت بن چکی ہے، صہیونی حکومت کے خلاف وینزوئیلا کے شجاعانہ موقف نے، قوموں کے درمیان وینزوئیلا کے دوستان میں اضافہ کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲