اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی، علاقے کے مختلف ملکوں کا سلسلے وار دورہ مکمل کرکے واپس تہران پہنچ گئے۔ وہ علاقے کے تین ملکوں کا چار روزہ دورہ مکمل کرکے جمعے کی رات واپس تہران پہنچے۔ تہران میں امام خمینی بین الاقوامی ایرپورٹ پر نامہ نگاروں سے گفتگو میں ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے کہا کہ شام، لبنان اور عراق کے، مجموعی طور پر چار روزہ دورے میں انھوں نے ان ملکوں کے حکام سے مختلف شعبوں منجملہ پارلیمانی شعبے میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور دہشتگردی کے خلاف مہم کے بارے میں گفتگو کی۔ علاقائی ملکوں کے اس دورے میں، پہلے وہ شام پہنچے اور آخر میں عراق کا دورہ کیا۔ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ علاقے کے اہم مسائل کے بارے میں شام، لبنان اور عراق کے حکام کے درمیان نظریات میں یکسوئی پائی جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس دورے میں ان تینوں ملکوں کے حکام سے خاصطور سے دہشتگردی کے خلاف مہم کے بارے میں گفتگو ہوئی اسلئے کہ اس وقت پورا علاقہ، اس مسئلے میں گھرا ہوا ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ علاقے کے تمام ملکوں کو چاہیئے کہ بحران شام کے حوالے سے کوئی راہ حل تلاش کریں اسلئے کہ دہشتگردی سے علاقے کے تمام ممالک، خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ انھوں نے لبنان کی تحریک مزاحمت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس مزاحمت کی بدولت لبنان، دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ڈاکٹر علی لاریجانی نے عراق کی سیاسی صورت حال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس ملک میں سیاسی حالات، اب کافی بہتر ہوتے جارہے ہیں اور اس ملک میں سیاسی مفاہمت کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔انھوں نے عراق میں داعش دہشتگرد گروہ کا مقابلہ کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراقی کردستان سمیت اس ملک کے مختلف علاقوں میں داعش کے مقابلے میں موثر طریقے اپنائے گئے ہیں جو کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے ایران اور شام،لبنان، اور عراق کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کے بارے میں کہا کہ ان ملکوں کے حکام سے تجارتی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی اور ایران کی جانب سے ان ملکوں کو ترقی یافتہ صنعتی ٹکنالوجی پیش کئے جانے کے حوالے سے مذاکرات کے، اچھے نتائج حاصل ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲