اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمپبل نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عبداللہ عبداللہ نے دھشتگردی پر قابو پانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی تعاون کی ضرورت پر تاکید کی ۔ ہونے والی ملاقات میں غیر ملکی افراج کے کمانڈر جنرل جان کمپبل نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ہونے والی ملاقات پر کہا کہ جنرل راحیل شریف اور دوسرے حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں انہوں نے کابل اور اسلام آباد کے مابین اطلاعات کے تبادلے اور سکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔
افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمپبل کا افغانستان کے آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی کے ہمراہ اچانک دورہ پاکستان میں طے پایا کہ ضرورت پڑنے پر سرحدی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ دورہ پاکستان میں پشاور کے آرمی اسکول پر ہونے والے حملے جس میں 140سے زائد طالبعلم جاں بحق ہوئے اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اچانک دورہ افغانستان کے ایک ہفتے بعد انجام پایا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے فوجی سربراہوں نے آرمی ہیڈ کواٹر راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات میں دھشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پشاور کے آرمی اسکول پر ہونے والے حملے کے ایک روز بعد اچانک کابل کا دورہ کیا تا کہ اس واقعہ اور سکیورٹی کے دوسرے مسائل کے حوالے سے اس ملک کے اعلی حکام اور فوجی سربراہ سے گفتگو کریں۔ موصولہ رپورٹوں کے مطابق طالبان کے کمانڈراور پشاور کے آرمی اسکول پر ہونے والے حملے کے ماسٹر مائنڈ عمر نارےاس وقت افغانستان میں ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کابل کا دورہ کیا اور اس ملک کے صدر اشرف غنی سے دھشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
درایں اثنا امریکی وزارت دفاع پنٹاگون کی جانب سے طالبان کے ساتھ عدم دشمنی کے اعلان پر افغانستان کی وزارت دفاع نے کہا کہ دھشتگردوں کو آزاد نہیں چھوڑیں گے اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ افغانستان کی وزارت دفاع کے نائب ترجمان دولت وزیری نے کہا کہ کابل حکومت کیلئے اچھے اور برے دھشتگردکوئی معنی نہیں رکھتے دھشتگرد جو بھی ہوں ان کے خلاف کاروائی کر کے انھیں نابود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی افغان عوام کے جان و مال کے خلاف کاروائی کرے سڑکوں اور پلوں کو تباہ کرے دھشتگرد ہیں اور وہ افغانستان کے کسی بھی علاقے میں کیوں نہ ہوں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ دولت وزیری نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کسی بھی طور اپنی سرزمین کو ھمسایہ ملکوں کے خلاف دھشتگردانہ کاروائیوں، دھشتگردوں کی آماجگاہ بننے اور سازشوں کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲