اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق اس دھمکی کا سبب، امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے پيونگ یانگ پر سائبر حملوں کے لئے الزامات عائد کیا جانا قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا کے قومی دفاعی کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ پر حملے میں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے ساتھ ساتھ پورے امریکہ میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
شمالی کوریا کے قومی دفاع کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں پيونگ یانگ کی جانب سے ایک فلم پر حساسیت ظاہر کی گئی ہے جس میں کوریا کے لیڈر کم جونگ کے قتل کا منصوبہ بناتے دکھایا گیا ہے۔
امریکہ نے شمالی کوریا پر سائبر حملوں کا الزام عائد کیا ہے جو امریکہ کے لئے دہشت گردانہ حملوں کی طرح ہیں۔
صدر اوباما نے کہا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کوریا اس مسئلے میں حقیقت میں شامل ہے یا نہیں۔ اگرچہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ممکنہ حملہ جنگ نہیں ہو گی۔ شمالی کوریا کے قومی دفاعی کمیشن کے سربراہ کوریائی لیڈر کم ہیں۔ کمیشن نے منتبہ کیا ہے کہ کوریا کے بارہ لاکھ فوجی امریکہ کے خلاف ہر قسم کی جنگ کے لئے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ کے سونی پکچرز پر سائبر حملے اور بھاری نقصان کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا میں کشیدگی دوبارہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔
سونی پکچرز ایسی فلم کی ریلیز کی تیاری کر رہا تھا جس میں شمالی کوریا کے سربراہ کے قتل سے متعلق مناظر کو دکھایا گیا ہے۔ سائبر حملے کے بعد سونی نے فلم کی ریلیز کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.......
/169