18 دسمبر 2014 - 20:46
سانحہ پشاور، آٹھویں کے طالب علم محمد شہیر کی رسم قل پشاور میں ادا

پشاورکے آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے محمدشہیر کی رسم قل کچھ اس حال میں ادا کردی گئی ہے کہ ماں غم سے نڈھال ہے اورباپ اس حملے میں بچنے والے دوسرے بیٹے کوبھی قربان کرنے کے لئے تیارہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پشاورکے آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے محمدشہیر کی رسم قل کچھ اس حال میں ادا کردی گئی ہے کہ ماں غم سے نڈھال ہے اورباپ اس حملے میں بچنے والے دوسرے بیٹے کوبھی قربان کرنے کے لئے تیارہے۔ غم سے نڈھال ماں شگفتہ کا گلستان تاراج اور گود اجڑ گئی۔13 سالہ بیٹامحمد شہیر کتابیں لے کرایسا سکول گیا کہ اس کی لاش ہی واپس آئی۔ اب ماں ہے کہ اس کے گرد لوگ توبہت موجود ہیں لیکن اس کی امیدوں کا محورمحمد شہیرموجود نہیں جواب کبھی واپس نہیں آئےگا۔ محمد شہیراپنے بھائی محمد منیب کے ہمراہ سکول گیا تھا، منیب خوش قسمت ہونے کے ساتھ ساتھ پرعزم بھی ہے کہ اتنا بڑا زخم سہنے کے بعد بھی تعلیم کوادھورا چھوڑکرحملہ آوروں کوخوش نہیں ہونےدے گا۔ یوں توماں اوربیٹا غمزدہ ہیں لیکن اسی غم کا مارا باپ اب بھی کہتا ہے کہ ضرورت پڑی تووطن پردوسرا بیٹا بھی قربان کردے گا۔ محمد شہیرکی شہادت کی خبرسن کردورونزدیک سے اپنے اورپرائے تعزیت کے لئے جمع ہوئے اوررسم قل بھی ادا کی گئی۔ شہیر پیوند خاک ہوگیا،منیب بچ گیا،ماں لٹ گئی اور دل پر عمر بھر کے لئے ایسا داغ لگ گیا جس سے چھٹکارا لحدتک ممکن نہیں مگر وہ یہ سوال ضرور کررہی ہے کہ آخر اسکے جگر گوشے کا قصور کیاتھا۔

.......

/169