اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا : ایک ایسے وقت جب ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان سترہ دسمبر کو جنیوا میں مذاکرات ہونے کو ہیں سعودی عرب کے وزیر داخلہ واشنگٹن میں باراک اوباما کے خصوصی مہمان کی حیثیت سے مختلف امریکی حکام سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر داخلہ محمد بن نایف بظاہر اسلئے واشنگٹن کا دورہ کررہے ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات بالخصوص دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تبادلہ خیال کریں ۔یاد رہے اس سے پہلے بھی جب ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت بھی سعودی عرب کے نیشنل گارڈ کے سربراہ متعب بن عبدالعزیز نے باراک اوباما سے ملاقات کے لئے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا۔ایک اور بات جس نے تجزیہ نگاروں کو اس وقت اپنی طرف متوجہ کیا تھا وہ سعودی وزیر خارجہ کی آسٹریا کے ایک ائیرپورٹ پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ہنگامی ملاقات تھی۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کی طرف سے اس وقت جو سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اس کا ایران کے ایٹمی مذاکرات سے گہرا تعلق ہے اور سعودی حکام امریکی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔امریکی حکام نے گذشتہ کچھ عرصے سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں والے مذاکرات میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول رکھے ہیں دوسری طرف امریکہ نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھتاتے ہوئے علاقائی ممالک میں بڑی مقدار میں ہتھیار فروخت کئے ہیں۔ سعودی عرب نے اقتصادی بحران میں گرفتار فرانس سے بھی دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کے معاہدے کئے تاکہ اسے بھی ایران کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔
ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دور میں اس بات کا قوی امکان تھا کہ ایک حتمی سمجھوتہ طے پا جائے اور پابندیوں کے خاتمے کا آغاز ہوجائے لیکن سعودی عرب کی مذکورہ سرگرمیوں اور سیاسی وجوہات کی وجہ سے مذاکرات میں مذید توسیع کردی گئی اور حتمی معاہدے پر دستخط نہ ہوسکے۔سعودی عرب نے دوسرے طریقوں سے بھی ایران کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو 110 سے 60 ڈالرفی بیرل پر لے آیا ہے ۔سعودی عرب نے اوپیک کے آخری اجلاس میں بھی تیل کی قیمتوں کو مذید گرنے سے روکنے کی تجویز کی حمایت نہیں کی ہے۔تجزیہ نگاروں کے آرا کے مطابق سعودی عرب یہ سب کچھ امریکہ کے اشارے پر کررہا ہے تاکہ ایران اور روس پر دباؤ بڑھایا جاسکے تاہم اس سناریو پر غاصب صیہونی حکومت سب سے زیادہ خوش ہے کیونکہ اس کا ایک نتیجہ ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان معاہدے میں مذید تاخیر کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے ۔
بہرحال ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے نئے دور سے پہلے امریکی حکام اور سعودی وزیر داخلہ کی ملاقاتیں معنی خیز ہیں ۔ سعودی وزیر داخلہ نے صدر امریکہ سے پہلے امریکہ کی نائب وزیر خارجہ ونڈی شرمن سے بھی ملاقات کی ہے ۔ونڈی شرمن امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کی رکن ہیں اور اس ٹیم اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے درمیان آئندہ منگل اور بدھ کو جنیوا میں مذاکرات ہورہے ہیں۔امریکہ اور سعودی عرب کی لابیوں کے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقاتوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی ان مذاکرات کے بارے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان یہ مذاکرات ایک حوالے سے بلا شبہ ایک موقع بھی ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ کے رویوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان مذاکرات کے زریعے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ایک دشوار امر ہے ۔یہ مذاکرات چاہے کسی بھی وجہ سے شکست سے دوچار ہوں اس میں ایران کو شکست نہیں ہے کیونکہ ایران کے مطالبے اور حقوق این پی ٹی کے معاہدے کے دائرے میں واضح اور مشحض ہیں اور ایران نے اعتماد سازی کے لئے متعدد اقدامات انجام دئے ہیں ۔ایسی صورت حال میں امریکہ کے پاس اگر کوئی چیزباقی بچتی ہے تو وہ اسکے ایران کے خلاف گھسے پٹے الزامات اور فرسودہ بہانے ہیں جن کے استعمال کا وقت اب ختم ہوچکا ہے ۔ان مذاکرات کی ناکامی سے کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا دوسری طرف امریکہ کی داخلی مشکلات پر قابو پانے کے لئے ان مذاکرات کاکسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ضروری ہے ۔
........
/169