10 دسمبر 2014 - 10:17
امریکہ اور نسلی امتیاز کا مسئلہ

ایسے عالم میں جب حالیہ مظاہروں نے امریکہ میں نسلی امتیاز کے مسئلے کو مرکز توجہ بنا دیا ہے باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ امریکی تاریخ اور معاشرے میں اپنی جڑیں پیوست کر چکاہے۔ اگرچہ امریکہ میں غیرسفید فاموں کے ساتھ نسلی امتیاز سنجیدہ مسئلہ نہيں ہے، لیکن فرگوسن اور پھر اس کے بعد نیویارک میں سیاہ فام کے قتل میں ملوث پولیس افسر کو بری کر دیئے جانے کے بعد اس دیرینہ مسئلے کے نیچے دبی ہوئي چنگیری شعلہ ور ہوگئی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: ایسے عالم میں جب حالیہ مظاہروں نے امریکہ میں نسلی امتیاز کے مسئلے کو مرکز توجہ بنا دیا ہے باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ امریکی تاریخ اور معاشرے میں اپنی جڑیں پیوست کر چکاہے۔ اگرچہ امریکہ میں غیرسفید فاموں کے ساتھ نسلی امتیاز سنجیدہ مسئلہ نہيں ہے، لیکن فرگوسن اور پھر اس کے بعد نیویارک میں سیاہ فام کے قتل میں ملوث پولیس افسر کو بری کر دیئے جانے کے بعد اس دیرینہ مسئلے کے نیچے دبی ہوئي چنگیری شعلہ ور ہوگئی۔
اریک گارنر اور مائکل براون دو سفیدفام پولیس افسروں کے ہاتھوں قتل کئے گئے اور آخر میں ان دونوں پولیس افسروں کو بری کردیاگیا۔
اس سے قبل بھی بارہا ایسا ہوا ہے کہ اس طرح کے کیس کے ملزمین قانون کے ہاتھ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہيں اور سیاہ فام امریکی نوجوان کے قتل کیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔
مارتین ایک سیاہ فام امریکی نوجوان تھا جو چھبیس فروری دوہزاربارہ میں ریاست فلوریڈا کے سنفور شہر کے ایک محلے کے گارڈ جورج زیمرمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا۔
اس فائرنگ پر بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے لیکن آخرکار زيمرمن بھی الزامات سے بری ہوگیا۔
بےشک امریکہ میں نسلی امتیاز ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اس ملک کی تاریخ و ثقافت کی جڑوں میں پیوست ہے۔
امریکہ نام کے ملک کی تشکیل کے بعد، اس ملک کی اقتصادی و معاشی پیشرفت و ترقی کا بھاری بوجھ ان غلاموں کے کاندھوں پر لاد دیاگیا جو افریقہ سے اسمگل کئے جاتے تھے۔
یہ معاشی منفعت سماجی اور قانونی شکل اختیارکرگئي یہاں تک کہ غلامی، کے دور کے خاتمے کے بعد بھی اس کا سلسلہ جاری رہا۔
مارٹین لوتھر کینگ کی رہبری میں غلامی کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے نتیجے میں غلامی ختم کئے جانے کے برسوں بعد سیاہ فاموں کی صورت حال بہتر ہوئی تاہم یہ دیرینہ مسئلہ ختم نہيں ہوسکا۔
امریکہ کی قانونی اور سماجی تحقیقات کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ظاہر کے برخلاف، امریکی سماج کے درمیانی اور نچلے طبقے کی تہوں میں نسلی امتیاز بڑھتا جا رہا ہے۔
اس وقت بہت سے وسائل اور مراعات جو سفید فاموں کو حاصل ہیں، وہ غیرسفید فاموں کو میسر نہيں ہیں۔
مثال کے طور پر تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر کاموں ، بالخصوص محنت کے کاموں میں سفید فام مزدوروں کے مقابلے میں سیاہ فام اور ہیسپانیک مزدوروں کو نہایت کم اجرت ملتی ہے ۔
جرائم کے ارتکاب کے سلسلے میں سیاہ فاموں کو سفید فاموں کے مقابلے میں تقریبا بیس فیصد زیادہ سزا دی جاتی ہے ۔ امریکہ میں سزائے موت یا عمرقید کی سزا پانے والوں میں زيادہ تر سیاہ فام یا غیر سفید فام ہوتے ہیں ۔
امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار وہائٹ ہاؤس میں سیاہ فام صدر پہنچنے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب اس ملک کی مختلف نسلوں کے درمیان آشتی قائم ہوجائےگی۔
لیکن ایسا نظرآتا ہے کہ غیر سفید فام صدر ہونا امریکہ کی اس دیرینہ مشکل کے حل میں نہ صرف یہ کہ معاون ثابت نہيں ہوا بلکہ سروے رپورٹوں کے مطابق اس ملک میں نسلی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

.......

/169