7 دسمبر 2014 - 13:24
بحرین میں پہلے برطانوی فوجی اڈے کا قیام

امریکہ کے بعد اب برطانیہ بحرین میں اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے کے درپے ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے بعد اب برطانیہ بحرین میں اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے کے درپے ہے۔ منامہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کے بارے میں بحرین اور برطانیہ کے مابین سمجھوتہ طے پاگیا ہے۔اس سمجھوتہ کی بنیاد پر خلیج فارس میں برطانوی بحریہ کی حمایت کے لئے بحرین میں بندرگاہ سلمان میں ایک لجسٹیکی اڈے کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس طرح برطانیہ 43برسوں بعد ایک بار پھر خلیج فارس میں پلٹ آئے گا۔بحرین اور برطانیہ کے مابین اس سمجھوتہ پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے دستخط کئے ہیں۔ بحرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ سمجھوتہ منامہ اور لندن کے مابین تعلقات کے فروغ کی راہ میں بڑھایاجانے والا ایک قدم شمار ہوگا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ فلیپ ہامونڈ نے لنڈن اور منامہ کے مابین طے پانے والے دفاعی سمجھوتہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہاکہ یہ سمجھوتہ، علاقائی خطرات سے مقابلے کے لئے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے عزم مصمم اور ٹھوس ارادےکا غماز ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ منامہ اور لندن اس نئے سیکورٹی سمجھوتہ سے جوکہ جنوبی خلیج فارس کے علاقے میں برطانیہ کی دفاعی پوزیشن کے استحکام کا باعث بنےگا، خاص اہداف و مقاصد کے حامل ہیں۔دور حاضر میں جب کہ آل خلیفہ حکومت کو بحرینی عوام کی مخالفتوں کا سامنا ہے ، منامہ اس امر میں کوشاں ہے کہ برطانوی فوجیوں سے بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کوروکنے میں استفادہ کرے حتی بعض ذرائع نے بحرین میں برطانوی فوجیوں کی موجودگی کاپہلا مشن عوامی انقلاب کی سرکوبی بتایا ہے ۔خاص طور پر ایسے میں کہ حالیہ چار برسوں کے دوران آل خلیفہ حکومت نے بارہا مغربی حکام سے بحرین کے بادشاہی نظام کو برقرار رکھنے میں حمایت ومدد کی درخواست کی ہے۔دوسری جانب لندن بھی منامہ کے ساتھ اس دفاعی سمجھوتے کا خواہاں رہا ہے ۔برطانوی حکام، بہت پہلے سے اپنی پالیسیوں میں خلیج فارس میں اپنی موجودگی کا رجحان ظاہر کرتے رہے ہیں۔برطانیہ کے وزیر دفاع "مائیکل فیلون" نے صریحا کہا ہے کہ ہم ایک بار پھر خلیج فارس کے علاقے میں اپنے قدم جمائیں گے۔ اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عمان کے اپنے دورے میں جٹ جنگی طیارے "ٹائیفون" کی فروخت کے حوالے سے عمان حکومت کے ساتھ ڈھائی ارب ملین پونڈ کی قیمت پر مبنی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ حقیقت امر یہ ہے کہ برطانیہ بھی ہتھیار بنانے والے دیگر ممالک کی طرح اپنے ہتھار بیچنے میں کوشاں ہے لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا عرب حکومتوں کی رائے عامہ ، دور حاضرمیں پیداہونے والی اسلامی بیداری کے پیش نظر مغربی ممالک کی فوجی موجودگی قبول کریں گی؟ بحرین میں ان دنوں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔جس طرح کہ گزشتہ برسوں کے دوران بحرین کے سواحل پر امریکی بحریہ کے اڈے کے قیام کی مخالفت میں بارہا مظاہرے ہوچکے ہیں۔بعض سیاسی حلقے بحرینی عوام کے طرز فکر کے پیش نظر بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کی منامہ کی جانب سے موافقت کو آل خلیفہ حکومت کا اشتعال انگیز اقدام قرار دے رہے ہیں جو بحرینی عوام کے غم وغصّہ کی آگ کو مزید بھڑکانےکا باعث بنےگا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169