اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حسین امیرعبداللہیان نے جمعرات کی شام، ایران کے نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بارہا براہ راست اور بالواسطہ، امریکہ اور مغرب کو مشرق وسطی کے حساس علاقے میں داعش کی موجودگی کی طرف سے متنبہ کیا۔ نائب وزیر خارجہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکا، داعش سے جدوجہد میں دہرا رویہ اپنائے ہوئے، کہا کہ جب تک دہشت گرد شام میں موجود تھے، امریکا اور مغرب کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں آیا، یہاں تک کہ انہوں نے کھل کر ایک طرح سے ان کی حمایت کی۔
نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا کہ علاقے میں موجود زیادہ تر دہشت گرد امریکا اور یورپ کے شہری ہیں اور جب یہ اپنے ممالک کو لوٹیں گے تو اپنی حکومتوں کے لئے مسائل کھڑے کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں داعش، مشرق وسطی کے لئے بحران سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ بحران عالمی ہو گیا ہے اور پوری دنیا کے لئے خطرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ امیر عبد اللہیان نے کہا کہ ایران کا یہ خیال ہے کہ علاقائی ممالک کو خود، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ خیال ہے کہ سعودی عرب علاقے اور عالم اسلام کا ایک اہم ملک ہے اور دہشت گردی سے جدوجہد اور علاقائی مسائل کے حل اور علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے تہران- ریاض کے درمیان تعاون بہت اہم اور ضروری ہے۔ انہوں نے بحرین کی موجودہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک چند داخلی انتہا پسند گروہوں سے اتنا متاثر ہے کہ اس نے بحرین کے فرمانراو کے ہاتھ سے سیاسی حل کا موقع بھی سلب کر لیا۔ شام کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ایران نے شام کے بحران کے آغاز سے ہی کہا تھا کہ کچھ عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت سے یہ بحران مزید پیچیدہ ہوگا اور اس ملک کے بحران کا حل، مذاکرات کے ذریعے اور صرف شامی عوام کر سکتے ہیں۔
.......
/169