اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی صدر بارک اوبامانے کانگریس کی مخالفت کے باوجود اپنا خصوصی اختیار استعمال کرتے ہوئے امیگریشن اصلاحات سے متعلق ایگزیکٹیو آرڈر جاری کردیا جس کے بعد ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 50 لاکھ افراد کو بے دخل نہیں کیا جائےگا۔ موصولہ خبروں کے مطابق امریکی صدر نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہمارا امیگریشن سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو بےدخل کرنا حقیقت پسندانہ نہیں اس لئے محنت کش تارکینِ وطن کو ایک موقع دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ وہ عام معافی کا اعلان نہیں کر رہے بلکہ عام فہم معاملہ اور درمیانی راستہ ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد قانونی طور پر کام کرنے کے اہل ہو جائیں گے لیکن نہ ہی انھیں شہریت اور نہ ہی دیگر امریکیوں کی طرح حکومتی امداد مل سکے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت ری پبلکن پارٹی نے کہا ہے کہ کانگریس سے منظوری لیے بغیر یہ اقدام صدر کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے اور اس سے حکومت اور حزب اختلاف کے تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ نئی اصلاحات کا نفاذ صدر کے اختیار میں نہیں ہے اور وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکا میں اس وقت ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب غیر قانونی تارکینِ وطن مقیم ہیں جبکہ صدر براک اوباما گذشتہ کئی برسوں سے امریکہ کے امیگریشن قوانین میں بہتری لانے کے وعدے کر رہے ہیں لیکن کانگریس میں رپبلکن پارٹی کے اراکین کی مخالفت کی وجہ سےامریکی صدر کو اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲