18 نومبر 2014 - 05:57
افعانستان کے صدر کا دورہ پاکستان اور افغان میں رونما ہونے والی تبدیلیاں

افغانستان کے صدر کے دورۂ پاکستان کو سیاسی و سیکیورٹی امور کے مبصرین خاص اہمیت دے رہے ہیں، اور ان کا یہ خیال ہے کہ علاقے کے حساس حالات اور تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورت حال میں افغان صدر کا دورہ پاکستان بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جیسا کہ آپ کے علم ہے کہ حال ہی میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا ہے اور پاکستان کے دورے سے قبل وہ چین کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے چین کے اعلی حکام سے ملاقات کی تھی۔ افغانستان کے صدر کے دورۂ پاکستان کو سیاسی و سیکیورٹی امور کے مبصرین خاص اہمیت دے رہے ہیں، اور ان کا یہ خیال ہے کہ علاقے کے حساس حالات اور تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورت حال میں افغان صدر کا دورہ پاکستان بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی امور کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حال ہی میں افغانستان میں ایک متحدہ حکومت تشکیل پائی ہے جس میں اس ملک کے مختلف سیاسی  و قبائلی گروہوں کی نمائندگی ہے اور اس صورت حال میں تمام سیاسی گروہوں کو مطمئن کرنا اور ان کو ساتھ لیکر چلنا، ایک مشکل کام ہے اس لئے افغانستان کے نئے صدر کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ ملک میں شراکت اقتدار کے اس عمل کو  طویل عرصے تک جاری رکھیں، اور افغانستان کو مزید بحران سے بچائیں۔ سامعین اپنے گذشتہ روز کے پروگرام میں بھی افغان صدر کے دورۂ پاکستان کے تناظر میں امریکہ میں مقیم پاکستان کے امور کے معروف تجزیہ کار شاہین صہبائی سے گفتگو کی تھی ، افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دورۂ پاکستان اور افغانستان میں تبدیل ہوتی سیاسی اور سیکیورٹی تبدیلیوں کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہم نے آج بھی اسی موضوع کا انتخاب کیا ہے اور افغانستان اور پاکستان کے مسائل کے معروف تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی سے گفتگو کی ہے۔

ہمارے ساتھی نے سب سے پہلے رحیم اللہ یوسف زئی سے یہ سوال کیا کہ افغانستان ایک عرصے سے داخلی اور بین لاقوامی لحاظ سے بحران کا شکار ہے اور اس ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں افغانستان کے نئے صدر کے حالیہ غیرملکی دورؤں اور علاقائی صلاح مشوروں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

سامعین افغانستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ ایسے حالات میں کیا ہے کہ جب کابل میں ایک نئی حکومت بنی ہے، غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہو رہا ہے، امریکہ اور افغانستان کے مابین سکیورٹی معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں اور ہندوستان اس ملک میں اپنے اثر و رسوخ کی کوششوں میں لگا ہوا ہے جس نے پاکستان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس لئے کہ افغانستان کے حوالے سے  پاکستان کی ہمیشہ ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ اس ملک میں اس قسم کی حکومت بنے جو پاکستان کی پالیسیوں سے ہم آھنگ ہو۔ لیکن اس بار افغانستان کے عوام نے صدارتی انتخابات میں بھر پور طریقے سے شرکت کی اور اس ملک میں ایک قومی حکومت تشکیل پائی۔ اس لئے دونوں ملکوں کے سیاسی و فوجی حکام کے حالیہ صلاح مشورے، کابل – اسلام آباد کے روابط خاص طور سے سکیورٹی اور سلامتی سے متعلق امور کے حوالے سے موقف سے آگاہی حاصل کرنے کے تناظر میں انجام پارہے ہیں۔ تاہم اس وقت دونوں ممالک کے مابین طالبان کا موضوع خاص اہمیت کا حامل ہے اور افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے حوالے سے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو افغانستان میں بحالی امن کے عمل میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کے دور میں پاکستان نے اس حوالے سے تعاون کا یقین دلایا تھا لیکن کابل حکومت کو ہمیشہ ہی اس حوالے سے پاکستان سے شکایت رہی اور کابل نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین بحالی امن  میں رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے۔ تاہم افغانستان کی نئی حکومت، پاکستان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ کرے گا۔ اس قسم کی صورتحال میں یوں دکھائی دیتا ہے کہ کابل حکومت کے اس قسم کےمطالبوں پر پاکستان بھی افغان حکومت سے کچھ چاہے گا جن میں سے اہم ترین افغانستان میں ہندوستان کے اثر و رسوخ میں کمی اور ڈیورنڈلائن کے مسئلے کو نہ چھیڑنا شامل ہو سکتاہے اس لئے کہ افغانستان کا کہنا ہے کہ بہت سے پاکستانی علاقے افغانستان کا حصہ ہیں ۔

سیاسی مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے کابل اور اسلام آباد کی حکومتیں، اعتماد کی بحالی اور سکورٹی تعاون کے ذریعے نہ صرف سکورٹی کے مسائل کے حل میں مدد کرسکتی ہیں،  بلکہ دوطرفہ تعاون کے فروغ  اور اس سلسلے ميں موجود گنجائشوں سےاستفادے کے لئے بھی حالات سازگار بنا سکتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقے کے ملکوں کو درپیش  سکورٹی کے مشترکہ خطرات کے پیشں نظر ان کے درمیان سکورٹی اور انٹلی جنس کے شعبوں میں تعاون ایک ناقابل انکار ضرورت ہے۔ اسی سبب سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ، پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں حکومت اسلام آباد کی پالیسیوں پر اعتماد پیدا ہونے سے، اقتصادی شعبے میں تعاون کو ماضی سے زیادہ فروغ  حاصل ہوگا۔

بہرحال سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ملکوں کے اعلی فوجی اور سیاسی حکام کے مابین ہونے والی ملاقاتیں ، ان ممالک کے مابین بہت سے مسائل کے حل اور پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دورکرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ۔

دوسری جانب محمد اشرف غنی، افغانستان کو ترقی و پیشرفت کے راستے پر گامزن کرنا چاہتے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان تین عشروں سے زیادہ کی خانہ جنگی کے بعد تمام شعبوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، اسی لیئے افغانستان کے نئے صدر نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں افغانستان میں غیرملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی کے استحکام کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں سے قرار دیا اور کہا کہ یہ دو موضوع اقتصادی اور سماجی ترقی کی بنیاد شمار ہوتے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ امن کی اعلی کونسل کے دائرے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات، افغانستان کی نئی حکومت کے لئے نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ بہرحال افغانستان میں پرامن اقتدار کی منتقلی، اس ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے نئے باب کا اضافہ ہے، افغان صدر محمد اشرف غنی کی اس حوالے سے کوششوں کا آغاز اور علاقائی ملکوں سے صلاح مشورے اور ان کو افغانستان میں ترقی پیشرفت کے کاموں میں شراکت کی دعوت دینا ایک خوش آیند بات ہے۔

.......

/169