اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی قبائلی ذرائع اور عینی شاہدین نے منگل کے روز بتایا کہ وسطی یمن میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں کم سے کم 20 افراد مارے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد دارالحکومت صنعا سے 130 کلومیٹر دور واقع ایک قصبے میں ہونے والے ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ گزشتہ 25 اکتوبر کو بھی یمن کے وسطی صوبے البیضا کے ایک علاقے پر امریکی ڈرون طیارے نے کئي میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں 3 افراد مارے گئے تھے۔ واضح رہے کہ امریکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ڈرون حملوں میں القاعدہ کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر ہونے والے ان ڈرون حملوں میں عام شہری نشانہ بنتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ یمن میں گزشتہ کچھ برسوں میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں میں متعدد شہری مارے گئے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی کھلاف ورزی ہے اور اس تنظیم نےگزشتہ فروری میں امریکہ سے یمن میں دسمبر 2013 میں شادی کی ایک تقریب پر کئے گئے ڈرون حملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169