28 اکتوبر 2014 - 07:06
جامع جوہری سمجھوتے کا حصول ممکن ہے، ڈاکٹر روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے فریق کی جانب سے اگر لازمی سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا گیا تو جامع جوہری سمجھوتہ طے پاجائےگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت نے تہران میں ناروے کی نئی سفیر اوڈیسہ نورہائم کی جانب سے تقّرری کے کاغذات، پیش کئے جانے کے موقع پر ایک بیان میں اس نکتے پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران نے جوہری شعبے میں گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات میں بہت زیادہ مثبت اقدامات انجام دیئے ہیں، کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں، ہمیشہ پرامن رہی ہیں اور اس کا جوہری پروگرام ہمیشہ پرامن رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ این پی ٹی معاہدے کے دائرے، اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں ایران کی جوہری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ ڈاکٹر روحانی نے جوہری توانائی سے پرامن استفادے کے سلسلے میں ایرانی قوم کے حقوق پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کی فتح کے تناظر میں جوہری سمجھوتے کا حصول، اس بات کا باعث بنے گا کہ تمام یورپی ملکوں، منجملہ ناروے کے ساتھ ایران کے تعلقات فروغ پائیں۔ انھوں نے ایران اور ناروے کے تعلقات کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے کافی ذرائع موجود ہیں۔ اس ملاقات میں ناروے کی نئی سفیر نے بھی کہا کہ تمدن و ثقافت کے اعتبار سے ایران کو علاقے میں اہم مقام حاصل ہے اور ان کا ملک، ایران کے ساتھ صلاح و مشورے کا عمل بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ علاقائي مسائل کے حل کے لئے اس عمل کو ضروری سمجھتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ناروے، پرامن جوہری توانائی سے متعلق ایران کے حق کو تسلیم کرتا ہے، امید ظاہر کی کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مقرّرہ مدت میں جامع جوہری سمجھوتہ طے پاجائےگا اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تمام توانائیوں سے استفادہ کئے جانے کا راستہ کھل جائے گا۔

.......

/169