اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ابراہیم جعفری نے کہا کہ بغداد اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ عراق کے اندر دوسرے ملک اپنی فوجی چھاؤنی بنائیں یا بری فوجیں تعینات کریں۔
واضح رہے کہ کچھ ذرائع ابلاغ نے عراق کےالانبار صوبے میں امریکی بری فوج کی تعیناتی کا امکان ظاہر کیا تھا جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ابراہیم جعفری نے کہا کہ عالمی برادری نے داعش کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں عراق کو مدد دینے کی پیشکش کی اور عراق نے اس مدد کو قبول کیا ہے لیکن کسی بھی ملک کی بری فوج کو عراق میں تعینات ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عراقی وزیر خارجہ نے ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں کہا کہ عراق، سیکورٹی کے شعبے میں پڑوسی ممالک سے تعاون کا خواہش مند ہے۔
ابراہیم جعفری نے داعش کے خلاف بننے والے اتحاد کے بارے میں ترکی کی حکمت عملی کے سلسلے میں کہا کہ داعش کے بارے میں ترکی کی حکمت عملی دیگر ممالک سے مختلف ہے لیکن اس کے پاس اس دہشت گرد گروہ کے خلاف تیار ہونے والے اتحاد کا حصہ بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
........
/169