اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقي فوج کے حوالے سے عراقي نيوز ايجنسي نے خبردي ہے کہ عراقي فوج نے صوبہ صلاح الدين کے شہروں ضلوعيہ ، قادسيہ اور تکريت ميں عوامي رضاکار فورس کي مدد سے کم سے کم پچاس دہشت گردوں کو ہلاک کرديا ہے۔ اس کاروائي ميں بڑي تعداد ميں دہشت گرد زخمي بھي ہوئے ہيں ۔ عراقي فوج کا کہنا ہے صلاح الدين صوبے ميں انجام پانےوالي اس کاروائي ميں دہشت گردوں کي متعدد گاڑيوں کو بھي تباہ کرديا گيا ہے جبکہ ان کے قبضے سے بھاري مقدار ميں گولہ بارود اور اسلحے بھي برآمد ہوئے ہيں ۔
العراقيہ ٹيلي ويژن چينل نے بھي سيکورٹي ذرائع کے حوالے سے خبردي ہے کہ فوج اور عوامي رضاکاروں نے صوبہ نينوا کے ربيعہ نامي علاقے ميں دہشت گردوں پر کاري ضربيں لگائي ہيں ۔ خبروں کے مطابق ربيعہ کے علاقے ميں صرف پيشمرگہ مليشيا نے ہي کم سے کم تيس دہشت گردوں کو ہلاک کرديا ہے جبکہ اس کاروائي ميں پيشمرگہ مليشيا نے دہشت گردوں کے قبضے سے کئي اسٹريٹيجک علاقے بھي آزاد کرالئے ہيں ۔
ادھر صوبہ الانبار سے بھي موصولہ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ فوج اور عوامي رضاکاروں نے الکرمہ کے علاقے ميں دسيوں دہشت گردوں کو ہلاک کرديا ہے۔ اس درميان فلوجہ شہر کي سيکورٹي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ داعش کا مفتي بھي جو ليبيا کا شہري تھا اس کاروائي ميں ہلاک کرديا گيا ہے۔ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ داعش کے اس نام نہاد مفتي کو اس کے چار ساتھيوں کےہمراہ صوبہ الانبار کے جنوب ميں ہلاک کرديا گيا ہے ۔
عراق سے ہي ايک اور خبر يہ بھي ہے کہ داعش کے عناصر نے اپنے تازہ ترين دہشت گردانہ اور وحشيانہ حملوں ميں صوبہ ديالہ کے شہر بعقوبہ کے شمال مشرق ميں واقع حمرين ڈيم کے قريب ايک فوجي اڈے پر فوجيوں کے لباس ميں حملہ کرديا جس ميں کم سے کم تيرہ عراقي فوجي شہيد ہو گئے ۔ ايک سيکورٹي ذريعے نے اس سلسلے ميں کہاکہ داعش کے عناصر نے ان فوجيوں کو قتل کرنے پي اکتفا نہيں کيا بلکہ ان کي لاشوں کو بھي مسخ کرديا ۔
داعش کے دہشت گردوں نے اسي طرح اپنے غير انساني اقدام کے تحت صوبہ ديالہ کے الخالص ڈيم کے دريچوں کو کھول کرعلاقے کے باشندوں کے لئے تازہ مشکلات کھڑي کردي ہيں۔ دہشت گردوں کے اس اقدام کي وجہ ے المنصورہ گاؤں کے سيکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے۔ علاوہ ازيں سيکڑوں ہيکٹر زرعي اراضي بھي تبا ہوگئي ۔
داعش کے دہشت گردوں نے پچھلے گزشتہ دنوں، عراق کے شمال مشرقي علاقوں ميں بجلي اور پاني کي سپلائي منقطع کرکے عراق کي بنيادي تنصيبات کو بے پناہ نقصان پہنچايا ہے ۔
دہشت گرد گروہ داعش نے تين سال قبل مغربي اور عرب ملکوں کي مدد سے شام ميں صدر بشار اسد کا تختہ الٹنے کے لئے اپني کاروائياں شروع کي تھيں ۔ يہ گروہ گزشتہ جون کے مہينے سے عراق کے بھي بعض علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں دہشت گردانہ کاروائياں انجام دے رہا ہے ۔ داعش کے دہشت گردانہ اقدامات پر پوري دنيا ميں تشويش کا اظہار کيا جارہا ہے ۔
.......
/169