اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور برطانیہ کے وزیراعظم ڈیویڈکیمرون کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، تہران کے جوہری مسئلے اور شام و عراق میں دہشتگردی کے خطرے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا ۔اس ملاقات میں صدر مملکت نے کہا کہ حکومت ایران، مشترکہ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر پوری دنیا کے ساتھ مفاہمت کی خواہاں ہے اور وہ برطانیہ کے ساتھ بھی تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جوہری مذاکرات کے بارے میں بھی کہا کہ ان کی حکومت، این پی ٹی معاہدے کے تناظر میں تہران کا پرامن جوہری پروگرام جاری رکھتے ہوئے ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی خواہاں ہے۔ صدر مملکت نے دہشتگردی کا بھی ذکر کیا اور شام و عراق میں داعش دہشتگرد گروہ کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دہشتگردی کا یکسوئی کے ساتھ حقیقی طور پر مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔اس ملاقات میں برطانیہ کے وزیراعظم ڈیویڈکیمرون نے بھی بعض مسائل میں ایران اور برطانیہ کے کے درمیان اختلافات پائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران و مغرب کے درمیان تعلقات کو قابل ذکر اہمیت کا حامل قرار دیا اور ایران و برطانیہ کے درمیان تعلقات و تعاون کو فروغ دینے کیلئے دونوں ملکوں میں پائی جانے والی توانائیوں سے استفادہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دیگر تمام ملکوں کی مانند ایران بھی پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا حق رکھتا ہے، جوہری سمجھوتے کے حصول کیلئے ایران کی کوششوں اور اسی طرح عراق میں نئی حکومت کے قیام میں ایران کے تعاون کی قدردانی کی۔ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور یورپی کونسل کے چیئرمین ہرمن فین رمپوئی اور اسی طرح ڈاکٹر روحانی اور اسلووانیہ کے صدر بوروٹ پا ہوور کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں بھی فریقین نے مختلف دو طرفہ علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔
.......
/169