16 ستمبر 2014 - 08:57
ایران، دہشت گردی سے جد جہد کا علمبردار ہے

ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچي نے کہا کہ پیرس میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس میں ایران کی موجودگی کے سلسلے میں تبادلہ خیال جاری ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچي نے کہا کہ پیرس میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس میں ایران کی موجودگی کے سلسلے میں تبادلہ خیال جاری ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے پیرس میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس میں ایران کی موجودگی کے بارے میں کہا کہ ایران شدت پسندی سے جدوجہد کا علمبردار ہے اور دہشت گردی، تكفيري گروہوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہوئی ہے اور اس کی اصل وجہ کچھ ممالک کی حمایت ہے۔

انہوں نے اس بات کا ذکر كرتے ہوئے کہ آج دنیا نے علاقے کے استحکام اور اسی طرح شام اور عراق میں دہشت گردوں سے مقابلے میں ایران کے کردار کا اعتراف کیا ہے، دہشت گردی سے جدوجہد کے لئے عالم اسلام کے مذہبی رہنماؤں کے ایک اجلاس کے انعقاد کی اطلاع دی اور کہا کہ ایران عالم اسلام کے اتحاد اور دہشت گردی سے جدوجہد کے لئے اب تک سرکاری و غیر سرکاری سطح پر کئی اجلاس منعقد کر چکا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تكفيري گروہ اسلامی و مذہبی تعلیمات کے خلاف کام کر رہا ہے جس کا حقیقی اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج شدت پسند گروہوں سے جدوجہد کے لئے جو کارروائی کی جا رہی ہے اس کا مقصد رائے عامہ کی توجہ اس کی حمایت سے ہٹانا ہے جو ان گروہوں کو حاصل ہے۔

ایران کے سینئر جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچي نے اس ہفتے نیویارک میں بدھ اور جمعرات کو ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ باہمی مذاکرات ہوں گے تاہم اختلافات شدید ہیں۔

.......

/169