اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدر حسن روحانی نے پیر کو تہران میں اسلوواکیہ کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم ميراسلاو لائیچاک سے ملاقات میں کہا کہ ایران جوہری مذاکرات کے سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے اور دوسرے فریق کو بھی مذاکرات میں سنجیدہ رہنا چاہئے تاکہ باقی بچی مدت میں جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
انہوں نے علاقائی مسائل، غزہ کے عوام کی صورتحال اور عراق و شام میں دہشت گردوں کے جرائم کے بارے میں کہا کہ غزہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ لوگوں کا قتل عام انتہائی افسوس و تشویشناک ہے۔
صدر ڈاکٹر روحانی نے دہشت گردی کے عالمی خطرے کے بارے میں کہا کہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جن ممالک نے دہشت گرد گروہوں کو اسلحے دیئے ہیں اور ان کی مالی مدد کی ہے، وہی آج ان گروہوں سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ممالک کو دہشت گردی کے مکمل صفائے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے اور پورے دنیا میں دہشت گردی کے خلاف متحد آواز سنائی دی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند برسوں ميں دونوں ملکوں کے تعلقات ميں کمي آئي ہے تاہم حالات کي بہتري کے بعد اب دونوں ملکوں کے تعلقات کو اقتصادي، علمي اور ثقافتي شعبوں ميں مزيد مستحکم بنايا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلواکيہ کے ساتھ اقتصادي، ثقافتي، علمي اور سياحتي شعبوں ميں تعلقات کے فروغ کي کافي گنجائشيں ہيں جن سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ ميں بخوبي فائدہ اٹھايا جا سکتا ہے۔
صدر مملکت نے دہشت گردي کو پورے خطے کي سلامتي کے لئے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گرد گروہوں کي پشت پناہي کرنے والے ملکوں کا دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ مضحکہ خيز ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پورا خطہ دہشت گردي کي لپيٹ ميں ہے، عراق اور شام ميں دہشت گرد گروہ داعش نے اپني دہشت گردانہ سرگرمياں جاري رکھي ہيں جبکہ فلسطين ميں اسرائيلي فوج بے گناہ فلسطينيوں کا خون بہا رہي ہے۔
صدر نے تہران اور اسلوواکیہ کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ دونوں ممالک میں تعلقات میں توسیع کی اچھی توانائي پای جاتی ہے اور تہران ان توانائیوں متحرک کرنے کے لئے آمادہ ہے۔
اس موقع پر اسلواکيہ کے وزير خارجہ نے صدر حسن روحاني سے ملاقات پر خوشي کا اظہار کيا اور کہا کہ ان کا حاليہ دورہ ايران دونوں ملکوں کے تعلقات ميں بہتري لانے کے حوالے سے نہايت مؤثر ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ميں ايٹمي توانائي کے بغير ترقي کا تصور ممکن نہيں ہے، اميد ہے ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے مذاکرات جيت ۔ جيت کے نتيجے پر ختم ہوں گے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں توسیع پر زور دیا۔
.......
/169